کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 27
رہے ہیں۔‘‘ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ’’بلاشبہ تمہارے تو(قدموں کے)نشانات تحریر کیے جاتے ہیں،سو تم نقل مکانی نہ کرو۔‘‘ مزید برآں یہی بات امام ابنِ ماجہ نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کی ہے۔[1] ب:قدموں کے نشانات کا مسجد سے واپسی پر بھی لکھا جانا: امام مسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک انصاری صحابی کے متعلق روایت نقل کی ہے،جو کہ مسجد نبوی سے دُور رہنے کے باوجود،با جماعت نمازیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادا کرتے تھے۔انہوں نے بیان کیا،کہ اس صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: ’’مَا یَسُرُّنِيْ أَنَّ مَنْزِلِيْ إِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ،إِنِّيْ أُرِیْدُ أَنْ یُکْتَبَ لِيْ مَمْشَايَ إِلَی الْمَسْجِدِ،وَرَجُوْ عِيْ إِذَا رَجَعْتُ إِلٰی أَہْلِيْ۔‘‘ ’’مجھے یہ پسند نہیں،کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔بلاشبہ میں تو چاہتا ہوں،کہ میرا مسجد کی طرف جانا اور اپنے گھر کی طرف لوٹتے ہوئے میرا پلٹ کر آنا تحریر کیا جائے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(جواب میں)فرمایا: [1] ملاحظہ ہو: سنن ابن ماجہ ، أبواب المساجد، باب الأبعد فالأبعد من المسجد أعظم أجراً، رقم الروایۃ ۷۶۹، ۱؍۱۴۱۔ حافظ منذری نے اس کی [سند کو جید] اور شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: الترغیب والترہیب ۱؍۲۰۹؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۱؍۱۳۱؛ و صحیح الترغیب والترھیب ۱؍۱۹۵)۔