کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 268
دنیا کی کسی بھی چیز کے حصول کی خواہش اور جستجو کی بنا پر باجماعت نماز کے بارے میں کوتاہی کرنے والے کا معاملہ نافرمان بنی اسرائیل ایسا ہے،جن کے متعلق رب ذوالجلال نے فرمایا: (أَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِيْ ہُوَ أَدْنٰی بِالَّذِيْ ہُوَ خَیْرٌ)[1] [کیا تم بہتر چیز کو کمتر چیز سے بدلنا چاہتے ہو؟] ۲:باجماعت نماز کی بجائے مطلوبہ چیز کا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہونا: باجماعت نماز میں کوتاہی کرکے دنیا کی کسی بھی چیز کے حصول کی جستجو کرنے والا اس حقیقت کو پیش نظر رکھے،کہ اس کی مطلوبہ چیز اور کائنات کی ہر چیز کے مالک تو تنہا ربّ ذوالجلال ہی ہیں۔انہوں نے خود ہی بتلایا ہے: (فَسُبْحَانَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَّإِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ)[2] [سو پاک ہیں وہ جن ہی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور ان ہی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔] مطلوبہ چیز اور کائنات کی ہر چیز عطا کرنے اور نہ کرنے کا اختیار صرف انہی کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے خود فرمایا: {قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ وَ تُعِزُّمَنْ تَشَآئُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآئُ بِیَدِکَ الْخَیْرُ إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} [3] [کہہ دیجیے:اے اللہ! بادشاہی کے مالک! آپ جسے چاہیں بادشاہی دیتے ہیں اور جس سے چاہیں بادشاہی چھین لیتے ہیں اور جسے چاہیں عزت [1] سورۃ البقرۃ/ جزء من الآیۃ ۶۱۔ [2] سورۃ یٰسین/ الآیۃ ۸۳۔ [3] سورۃ آل عمران / الآیۃ ۲۶۔