کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 267
تنبیہات اس مقام پر حضرات وخواتین قارئین کی توجہّ درجِ ذیل باتوں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ ا:مرد حضرات کے لیے: با جماعت نماز کے بارے میں غفلت اور پیش آمدہ رکاوٹوں کے ازالے کے لیے درجِ ذیل آٹھ باتوں پر غور وخوض کی با ادب درخواست ہے۔ ا:باجماعت نماز کے مقابلے میں ہر دنیوی چیز کی حقارت: کیا دنیا کی سب سے قیمتی چیز،بلکہ پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے،باجماعت نماز کے عوض ملنے والے اخروی اجر وثواب کا مقابلہ کرسکتی ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر جامع بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ وَاللّٰہِ! مَا الدُّنْیَا فِيْ الْآخِرَۃِ إِلَّا مِثْلُ مَا یَجْعَلُ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَہُ ہٰذِہٖ … وَأَشَارَ یَحْیٰی بِالسَّبَابَۃِ … فِيْ الْیَمِّ،فَلْیَنْظُرْ بِمَا یَرْجِعُ‘‘۔[1] ’’اللہ تعالیٰ کی قسم! دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسے ہی ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنی یہ انگلی ––یحییٰ نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کیا ––سمندر میں ڈالے،پھر وہ دیکھے،کہ وہ(یعنی انگلی سمندر سے)کیا لے کر پلٹی ہے؟‘‘ [2] [1] صحیح مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب فناء الدنیا وبیان الحشر یوم القیامۃ، رقم الحدیث ۵۵۔ (۲۸۵۸) عن مستورد رضی اللّٰه عنہ ، ۴/ ۲۱۹۳۔ [2] اس مثال سے مراد یہ ہے، کہ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے، جیسی کہ پانی کے چند قطروں کی سمندر کے مقابلے میں ہے۔