کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 263
تعمیل ہو اور اللہ تعالیٰ اور ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممنوعہ باتوں سے اجتناب ہو اور ان منافقوں کی مشابہت سے دوری ہو،جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کی بُری عادتوں کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان میں سے ایک خبیث ترین عادت ان کا نماز کے بارے میں سستی کرنا ہے۔‘‘ [1] [2] اپنے اس طرزِ عمل کی وجہ سے یہ شخص گناہ گار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کا مستحق ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے بھی یہ سزا کا مستحق ہے۔حکمرانوں پر فرض ہے،کہ وہ اسے اور اس جیسے لوگوں کو سزا دے کر نماز ضائع کرنے سے روکیں۔ اہلِ علم کی ایک جماعت کے نزدیک عمداً نمازِ فجر کو طلوعِ آفتاب کے بعد تک مؤخر کرنا[کفرِ اکبر] ہے،کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: [1] مقالات وفتاویٰ سماحۃ الشیخ ابن باز (اردو ترجمہ) ص ۲۱۹۔ [2] فتاویٰ اسلامیہ ۱/ ۴۶۰۔