کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 253
اور(ماں کے ساتھ)حسنِ سلوک کا ثواب ہے۔‘‘ اُن سے عرض کیا گیا: ’’ فَتَنْہَاہُ أَنْ یُصَلِّيَ الْعِشَائَ فِيْ جَمَاعَۃٍ؟‘‘۔ ’’وہ اسے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے روکتی ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ لَیْسَ ذٰلِکَ لَہَا،ہٰذِہِ فَرِیْضَۃٌ ‘‘۔[1] ’’اس(بات)کا اسے اختیار نہیں،یہ فرض ہے۔‘‘ د:امام عطاء بن ابی رباح [2] کے اقوال: ’’ حَقُّ وَاجِبٌ لَا بُدَّ مِنْہُ،وَلَا یَحِلُّ غَیْرُہُ،إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ،أَنْ یَأْتِيَ فَیَشْہَدَ الصَّلَاۃَ ‘‘۔[3] ’’جب وہ اذان سنے،تو نماز(باجماعت)میں حاضر ہونا اس پر فرض،واجب اور لازم ہے اور اس کے علاوہ اور کچھ(یعنی کسی اور کام یا بات [1] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۲/ ۱۲۵۔ حافظ ابن حجر نے یہ روایت علامہ الحسین بن الحسن المروزی کی کتاب [الصیام] سے نقل کی ہے اور اس کی [سند کو صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲/ ۱۲۵)۔ [2] امام عطاء بن ابی رباح: ابومحمد، قریش کے آزاد کردہ غلام، مکی، خلافت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخر میں پیدا ہوئے اور ۱۱۵ھ میں فوت ہوئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا، تو فرمایا: ’’اے اہل مکہ! تم لوگ میرے پاس اکٹھے ہو رہے ہو اور تمہارے پاس عطاء ہیں۔‘‘ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی ان کے بارے میں اسی قسم کے الفاظ فرمائے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا: ’’میں نے عطاء بن ابی رباح سے افضل شخص نہیں دیکھا۔‘‘ امام شافعی نے فرمایا: ’’تابعین میں سے عطاء سے زیادہ کوئی حدیث کی اتباع کرنے والا نہیں۔‘‘ (ملاحظہ ہو: تہذیب الأسماء واللغات ۱/ ۳۳۳۔ ۳۳۴؛ وسیر أعلام النبلاء ۵/ ۷۸۔ ۸۸؛ وتہذیب التہذیب ۷/ ۱۹۹۔ ۲۰۳)۔ [3] المصنف، کتاب الصلاۃ، باب من سمع النداء، رقم الروایۃ ۱۹۱۲، ۱/ ۴۹۶۔