کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 240
۔۱۔ حنبلی علمائے کرام کے اقوال ا:امام احمد کے اقوال: ’’ إِنَّ ہٰذَا الرَّجُلَ أَيْ رَجُلُ سُوْئٍ ‘‘۔[1] ’’بلاشبہ یہ شخص بُرا آدمی ہے۔‘‘ [2] ’’اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جماعت سے پیچھے رہنے والے کو اس کا حکم دو۔اگر تم نے ایسے نہ کیا،تو تم گناہ گار ہوگے اور ان کے(گناہ کے)بوجھ سے نہ بچو گے،کیونکہ تم پر اپنے بھائیوں کو نصیحت کرنا واجب ہے۔‘‘ ب:علامہ موفق الدین ابن قدامہ [3] کا قول: ’’ اَلْجَمَاعَۃُ وَاجِبَۃٌ لِلصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ‘‘۔[4] ’’پانچوں نمازوں کے لیے جماعت[واجب] ہے۔‘‘ [1] الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف ۴/ ۱۳۸۔ [2] ’’الصلاۃ‘‘ لإمام أہل السنۃ أحمد بن حنبل ص ۸۷۔ [3] موفق الدین ابن قدامہ: عبداللہ بن احمد بن محمد، مقدسی، دمشقی، صالحی، فقیہ، ابومحمد، ۵۴۱ھ میں پیدا اور ۶۱۵ھ میں فوت ہوئے۔ … بقول ابوالعباس ابن تیمیہ … اوزاعی کے بعد شام میں شیخ موفق سے بڑا فقیہ داخل نہیں ہوا۔ (ملاحظہ ہو: کتاب الذیل علٰی طبقات الحنابلۃ ۲/ ۱۳۳۔ ۱۳۶)۔ [4] المغني ۳/۵۔