کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 237
وہ)[سنّت] ہے۔تیسرا(قول):وہ[فرضِ عین] ہے۔یہ ہمارے اصحاب میں سے ابن منذر اور ابن خزیمہ کا قول ہے۔کہا گیا ہے:بلاشبہ وہ(امام)شافعی کا(بھی)قول ہے۔۔رحمہم اللہ۔۔ امام نووی نے جماعت کو[سنّت] کہنے والے علماء کے قول کا مقصود بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ أَمَّا إِذَا قُلْنَا:’’إِنَّہَا سُنَّۃٌ‘‘،فَہِيَ سُنَّۃٌ مُؤَکَّدَۃٌ۔قَالَ أَصْحَابُنَا:’’یُکْرَہُ تَرْکُہَا۔‘‘ صَرَّحَ بِہِ الشَّیْخُ أَبُوْ حَامِدٍ وَابْنُ صَبَّاغٍ وَآخَرُوْنَ ‘‘۔[1] ’’جب ہم اسے[سنّت] کہتے ہیں،تو اس سے مراد اس کا[سنّت مؤکَّدہ] ہونا ہے۔ہمارے اصحاب نے کہا:’’اس کا چھوڑنا مکروہ ہے۔‘‘ شیخ ابوحامد،ابن صباغ اور دیگر(علماء)نے یہ واضح طور پر بیان کیا ہے۔‘‘ ہ:علامہ ابن قاسم غزی [2] کا قول: ’’ فَجُمْلَۃُ الْأَقْوَالِ أَرْبَعَۃٌ:اَلرَّاجِحُ مِنْہَا أَنَّہَا فَرْضُ کِفَایَۃٍ‘‘۔[3] ’’(اس بارے میں)مجموعی طور پر چار اقوال ہیں۔ان میں سے راجح یہ ہے،کہ بے شک وہ[فرضِ کفایہ] ہے۔‘‘ و:شیخ سلیمان الجمل [4] کا قول: [1] کتاب المجموع ۴/ ۷۵۔ [2] علامہ ابن قاسم غزی: محمد بن قاسم بن محمد بن محمد، الشمس، ابو عبداللہ، غزی، قاہری، شافعی، فنون میں ممتاز، نیکی، تواضع، دین داری، عقل ودانش اور قناعت کے خصائل سے مشہور، ۸۵۹ھ میں پیدا اور ۹۱۸ھ میں فوت ہوئے۔ (ملاحظہ ہو: الضوء اللامع ۸/ ۲۸۶۔۲۸۷؛ والأعلام ۷/۲۲۸۔۲۲۹)۔ [3] شرح ابن القاسم علی متن الشیخ أبي الشجاع ۱/ ۱۹۳۔ [4] شیخ سلیمان الجمل: سلیمان بن عمر بن منصور، عجلی، ازہری، [الجمل] کے لقب سے مشہور، ایک فاضل شخصیت، مصر کی مغربی بستیوں میں سے منیہ عجیل کے رہنے والے، ۱۲۰۴ھ میں فوت ہوئے۔ (ملاحظہ ہو: الأعلام ۳/ ۱۳۱)۔