کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 228
وَکَذٰلِکَ صَرَّحَ بَعْضُہُمْ بِالْوُجُوْبِ ‘‘۔[1] ’’احناف اور مالکیوں نے کہا ہے:’’وہ(یعنی باجماعت نماز)[سنّت مؤکَّدہ] ہے‘‘،لیکن ان کے نزدیک[مؤکَّدہسنتوں] کا تارک گناہ گار ہوتا ہے۔(البتہ ان کے نزدیک)نماز اس(یعنی جماعت)کے بغیر(بھی)ہوجاتی ہے۔ (اس طرح)ان کے اور اسے[واجب] قرار دینے والے کے درمیان نزاع(صرف)لفظی ہے۔[2](مزید برآں)ان(یعنی حنفی اور مالکی علماء)میں سے بعض نے اسے[واجب] قرار دیا ہے۔‘‘ ۔ج۔ شافعی علماء کا موقف توفیقِ الٰہی سے پہلے شافعی علمائے کرام کے اقوال،پھر ان سے اخذ کردہ نتائج تحریر کیے جائیں گے: ۔۱۔ شافعی علمائے کرام کے اقوال ۱:امام شافعی کے اقوال: [3] ’’میں صاحبِ استطاعت کو بلا عذر باجماعت نماز کے لیے آنے کو چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘ [1] کتاب الصلاۃ ص ۶۴۔ [2] کیونکہ دونوں آراء کا نتیجہ یہ ہے، کہ باجماعت نماز کا تارک گناہ گار ہے۔ [3] کتاب الأم ۱/ ۱۵۴۔