کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 224
انہوں نے[سنّت] کی وہی تفسیر کی ہے،جو[واجب] کی ہے۔ د:بعض حنفی علماء نے اسے[سنّت] کہا ہے،لیکن ان کا اس سے مقصود یہ نہیں،کہ اسے چھوڑنے پر گناہ نہیں۔ان کی مراد یہ ہے،کہ اس کا[وجوب] سنّت سے ثابت ہوتا ہے۔ ہ:باجماعت نماز اسلامی شعائر میں سے ہے۔ و:کسی مرد کو اسے بلا عذر ترک کرنے کی اجازت نہیں۔ ز:اسے بلا عذر چھوڑنا موجبِ تعزیر ہے۔ ح:اسلامی حکومت پر واجب ہے،کہ اسے بلاعذر چھوڑنے والوں کو تعزیری سزا دے۔ ط:اس کا تارک اسلامی عدالت میں گواہی دینے کے اعزاز سے محروم ہوجاتا ہے۔اس کے شہادت دینے پر اسے مسترد کردیا جائے گا۔ ی:طلبِ علم میں مشغولیت کی وجہ سے اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں،اگرچہ وہ علمِ فقہ ہی کیوں نہ ہو۔ ک:اس کے چھوڑنے پر چپ رہنے والا پڑوسی گناہ گار ہوتا ہے۔ ل:کسی شہر والوں کے اسے چھوڑنے پر انہیں اس کے قائم کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ان کے نہ ماننے کی صورت میں ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔ م:مسجد جانے کے لیے اقامت کے انتظار میں بیٹھا رہنے والا شخص[بُرا انسان] ہے۔ کیا اس کے بعد[باجماعت نماز] ترک کرنے کے لیے یہ کہنے کی گنجائش ہے: ’’میں حنفی ہوں اور ہمارے نزدیک جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا[سنّت] ہے؟‘‘ فَاعْتَبِرُوْا یَا أُوْلِي الْأَبْصَارِ۔[1] [1] ترجمہ: اے آنکھوں والو! پس تم عبرت حاصل کرو۔