کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 222
انہوں(علامہ کاسانی)نے اور دیگر(فقہاء)نے ذکر کیا ہے،کہ ان میں سے اسے[سنّت مؤکَّدہ] کہنے والے نے حقیقت میں اختلاف نہیں کیا،بلکہ اس کا اختلاف(محض)لفظی ہے،کیونکہ[سنّت مؤکَّدہ] اور[واجب] ایک جیسے ہے،خصوصاً جب کہ زیرِ بحث عمل اسلامی شعائر میں سے ہو۔اس(یعنی جماعت کے واجب ہونے)کی سنّت سے دلیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر بلا انقطاع ہمیشگی کرنا اور احادیث کی ایک بڑی تعداد میں اسے بلاعذر چھوڑنے پر تنقید کا وارد ہونا ہے۔ کتاب[المجتبیٰ] میں ہے:’’ظاہر یہ(ہوتا)ہے،کہ ان کے اسے[سنّت مؤکَّدہ] قرار دینے سے مراد(اس کا)[واجب] ہونا ہے،کیوں کہ انہوں نے باجماعت نماز کے ترک پر شدید وعید والی احادیث سے استدلال کیا ہے۔‘‘ انہوں نے کتاب[المحیط] میں تصریح کی ہے،کہ کسی کو بھی بلا عذر اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،یہاں تک کہ اگر کسی شہر والوں نے اسے چھوڑا،تو انہیں اس(کے قائم کرنے)کا حکم دیا جائے گا۔اگر مان گئے(تو بہتر)،وگرنہ ان سے جنگ کرنا روا ہوجائے گا۔ کتاب[القنیۃ] وغیرہ میں ہے:’’بلا شبہ(اسلامی حکومت پر)واجب ہے،کہ اسے بلاعذر چھوڑنے والے کو تعزیری سزا دے اور اس(کے چھوڑنے پر)چپ رہنے والا پڑوسی گناہ گار ہے۔‘‘ اور اسی[یعنی کتاب القنیۃ] میں ہے:’’ مسجد میں جانے کے لیے اقامت کا انتظار کرنے والا بُرا ہے۔‘‘