کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 220
وَفِيْ الْقِنْیَۃِ:’’ یَشْتَغِلُ بِتِکْرَارِ الْفِقْہِ لَیْلًا وَنَہَارًا،وَلَا یَحْضُرُ الْجَمَاعَۃَ،لَا یُعْذَرُ وَلَا تُقْبَل شَہَادَتُہُ ‘‘۔ وَفِيْ شَرْحِ خَوَاہر زادہ:’’ ہِيَ سُنَّۃٌ مُؤَکَّدَۃٌ غَایَۃَ التَّأْکِیْدِ‘‘۔[1] شرح ہدایہ میں ہے:’’بلاشبہ وہ ہمارے عام مشایخ کے نزدیک[واجب] ہے۔ہمارے بعض اصحاب نے اسے[سنّت مؤکَّدہ] کا نام دیا ہے۔‘‘ کتاب[المفید] میں ہے:’’جماعت[واجب] ہے۔اس کے[وجوب] کے سنّت سے ثبوت کی وجہ سے اسے[سنّت] کا نام دیا گیا ہے۔‘‘ شرف الائمہ وغیرہ سے نقل کیا گیا ہے:’’اسے بلا عذر ترک کرنا موجبِ تعزیر ہے۔اسے چھوڑنے والے پر سکوت اختیار کرنے سے پڑوسی گناہ گار ہوتے ہیں۔‘‘ ان(یعنی ہمارے علماء)میں سے بعض سے نقل کیا گیا ہے: ’’جماعت چھوڑنے والے کی گواہی قبول نہ کی جائے گی۔‘‘ کتاب[القنیہ] میں ہے: ’’فقہی مسائل کے تکرار میں شب وروز مشغولیت کی بنا پر جماعت سے غیر حاضری والے کا عذر مانا جائے گا،نہ اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔‘‘ شرح خواہر زادہ میں ہے: ’’وہ شدید تاکید والی[سنّت مؤکَّدہ] ہے۔‘‘ ط:علامہ زین الدین ابن نُجَیْم حنفی [2] کا قول: [1] ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۵/ ۱۶۱۔۱۶۲۔ [2] علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی: زین بن ابراہیم بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد، ابن نجیم کی کنیت سے مشہور، امام، عالم، باعمل اور مؤلف، اپنے زمانے میں بے مثل، ۹۷۰ھ میں فوت ہوئے۔ (ملاحظہ ہو: الطبقات السنیۃ ۳/ ۲۷۵)۔