کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 215
وَأَمَّا تَوَارُثُ الْأُمَّۃِ فَلِأَنَّ الْأُمَّۃَ مِنْ لَّدُنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم إِلٰی یَوْمِنَا ہٰذَا وَاظَبَتْ عَلَیْہَا،وَعَلَی النَّکِیْرِ عَلٰی تَارِکِہَا،وَالْمُوَاظَبَۃُ عَلٰی ہٰذَا الْوَجْہِ دَلِیْلُ الْوُجُوْبِ۔[1] ہمارے عام مشائخ نے اسے[واجب] کہا ہے اور کرخی نے ذکر کیا ہے،کہ یہ[سنّت] ہے۔ان کا استدلال یہ ہے،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث: ’’باجماعت نماز منفرد شخص کی نماز سے افضل … الحدیث میں جماعت کو فضیلت پانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور یہی کسی کام کے سنّت ہونے کی علامت ہے۔ عام(مشائخ)کا استدلال کتاب وسنّت اور امت کے مسلسل عمل سے ہے: قرآنِ کریم(کے دلائل میں)سے: ارشادِ تعالیٰ:[ترجمہ:اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو] میں اللہ تعالیٰ نے رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کا حکم دیا ہے۔اس حکم کی تعمیل رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع میں شریک ہونے سے ہوتی ہے۔(علاوہ ازیں)(کسی کام کے متعلق)مطلَق حکم [2] اس کام کے لازمی طور پر کرنے کی خاطر ہوتا ہے۔ سنّت(کے دلائل میں)سے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث:’’یقینا میں نے ایک شخص کو حکم دینے کا مصمَّم ارادہ کیا … الحدیث [3] اس قسم کی(شدید)وعید واجب کام کے ترک پر ہی دی جاتی ہے۔ [1] ملاحظہ ہو: بدائع الصنائع ۱/ ۱۵۵۔ [2] یعنی قرائن سے خالی۔ [3] اس حدیث کے بارے میں تفصیل اس کتاب کے صفحات ۱۴۲۔۱۵۱ میں ملاحظہ فرمائیے۔