کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 208
۱۸:کسی بھی مسلمان کے نماز سے پیچھے نہ رہنے کے متعلق دشمن کی گواہی: جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے[بابل] کا محاصرہ کیا،تو مقوقس [1] نے دو قاصد ان کے پاس بھیجے۔دونوں قاصد اسلامی لشکر کے ساتھ دو دن رہنے کے بعد مقوقس کے پاس پلٹے،تو انہوں نے مسلمانوں کے متعلق حسبِ ذیل رپورٹ پیش کی: ’’ رَأَیْنَا قَوْمًا اَلْمَوْتُ أَحَبُّ إِلٰی أَحَدِہِمْ مِنَ الْحَیَاۃِ، وَالتَّوَاضُعُ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنَ الرِّفْعَۃِ، لَیْسَ لِأَحَدِہِمْ فِيْ الدُّنْیَا رَغْبَۃٌ وَلَا نَہْمَۃٌ، إِنَّمَا جُلُوْسُہُمْ عَلَی التُّرَابِ،وَأَکْلُہُمْ عَلٰی رُکَبِہِمْ، وَأَمِیْرُہُمْ کَوَاحِدٍ مِنْہُمْ، مَا یُعْرَفُ رَفِیْعُہُمْ مِنْ وَضِیْعِہِمْ،وَلَا السَّیِِّدُ مِنَ الْعَبْدِ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ لَمْ یَتَخَلَّفْ عَنْہَا مِنْہُمْ أَحَدٌ، یَغْسِلُوْنَ أَطَرَافَہُمْ بِالْمَائِ،وَیَتَخَشَّعُوْنَ فِيْ صَلَاتِہِمْ ‘‘۔ ’’ہم نے ایسی قوم دیکھی ہے،کہ ان میں سے(ہر)ایک شخص کو موت زندگی سے زیادہ عزیز ہے اور تواضع اسے(اظہارِ)بلندی سے زیادہ پیاری ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی(بھی)دنیا میں نہ رغبت ہے نہ چاہت، ان کا بیٹھنا مٹی ہی پر ہے اور ان کا کھانا اپنے گھٹنوں پر ہی ہے، ان کا امیر ان کے عام شخص کی مانند ہے، ان کا بلند مرتبہ شخص ان کے ادنیٰ رتبے والے شخص سے ممیز نہیں اور نہ ہی [1] (مقوقس) اسلامی فتح کے وقت مصر کے رومی حاکم کی جانب سے اسکندریہ کے مقرر کردہ سربراہ کا لقب۔ (ملاحظہ ہو: المنجد في الأعلام ص ۶۸۰)۔