کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 207
آوازیں دیتے جانا۔ ۳: خلیفۂ وقت کا نمازِ فجر سے غیر حاضری کا خود نوٹس لینا۔ ۴: نمازِ فجر کا باجماعت ادا کرنا ساری رات کے قیام سے اعلیٰ ہونا۔ ۵: خلیفۂ وقت کا نمازِ فجر کی جماعت سے غیر حاضر شخص کو طلب کرنا۔ ۶: بیمار شخص کے لیے گھر سے نکلنے کے لیے سب سے ضروری بات:[باجماعت نماز کے لیے نکلنا]۔ ۷: خلیفۂ وقت کی نابینا شخص کو جمعہ اور جماعت سے پیچھے نہ رہنے کی تلقین۔ ۸: خلیفۂ وقت کی جانب سے باجماعت نماز کے لیے اندھے شخص کو لانے کی غرض سے بیت المال سے غلام کی فراہمی۔ ۹: با جماعت نماز سے لوگوں کے پیچھے رہنے پر خلیفۂ وقت کی خفگی۔ ۱۰: خلیفۂ وقت کا باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والوں کی گردنوں پر مار کر نماز میں حاضری کا حکم دینے کے بارے میں پختہ ارادہ۔ ۱۱: امیرِ مکہ کا باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والوں کی گردنیں اڑانے کا اعلان۔ ۱۲: خلیفۂ وقت کا انتہائی شدید زخمی ہونے کے باوجود لوگوں کی جماعت کا اہتمام کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سلف صالحین کے باجماعت نماز کی خاطر اہتمام کے مذکورہ بالا واقعات میں اہلِ دل کے لیے کافی وشافی نصیحت ہے۔ { إِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ } [1] [1] سورۃ ق/ الآیۃ ۳۷۔ [ترجمہ: یقینا اس میں اس شخص کے لیے ضرور نصیحت ہے، جس کے لیے دل ہو یا وہ کان لگا کر حاضر (دل) سے سنے۔]