کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 204
وَاللّٰہِ! لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَیْہِمْ،فَیُجَأُ فِيْ أَعْنَاقِہِمْ۔ثُمَّ یُقَالُ:’’ اِشْہَدُوْا الصَّلَاۃَ ‘‘۔[1] ’’لوگوں کو کیا ہے،کہ وہ(باجماعت نماز سے)پیچھے رہتے ہیں۔ان کے پیچھے رہنے سے دیگر لوگ پیچھے رہتے ہیں۔واللہ! یقینا میں نے پختہ ارادہ کیا،کہ ان کی طرف(کوئی شخص)بھیجوں،کہ وہ ان کی گردنوں میں مارے،پھر(ان سے)کہا جائے:’’(باجماعت)نماز میں حاضر ہوجاؤ۔‘‘ باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والوں پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ کس قدر زیادہ اور ان کے متعلق ان کا پختہ عزم کیا تھا! حافظ ابن جوزی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کیا ہے،کہ انہوں نے بیان کیا: ’’جب سحری کی تاریکی میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ زخمی کیے گئے،تو وہ ان کے پاس حاضر ہوئے۔انہوں نے بیان کیا:’’میں نے مسجد میں موجود چند لوگوں کے ہمراہ انہیں اٹھا کر ان کے گھر میں داخل کیا۔ انہوں نے بیان کیا:’’ وَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ رضی اللّٰهُ عنہ أَنْ یُصَلِّيَ بِالنَّاسِ‘‘۔ ’’انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔‘‘ انہوں نے بیان کیا:’’ فَلَمَّا دَخَلَ عُمَرُ رضی اللّٰهُ عنہ بَیْتَہُ،غُشِيَ عَلَیْہِ مِنَ النَّزْفِ۔فَلَمْ یَزَلْ فِيْ غَشْیِہِ حَتّٰی أَسْفَرَ،ثُمَّ أَفَاقَ، [1] منقول از: کنز العمال، الباب الخامس (في الجماعۃ وفضلہا وأحکامہا)، فصل في فضلہا، رقم الروایۃ ۲۲۷۹۵، ۸/ ۲۵۲۔