کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 196
’’بلاشبہ مسجدیں متقی لوگوں کے گھر ہیں۔پس مسجدیں جن کے گھر ہوئیں،ان کے لیے راحت،رحمت اور پل صراط عبور کرکے جنت(میں داخلے)کی ضمانت ہے۔‘‘ مشفق اور عظیم باپ کی عزیز بیٹے کے لیے نصیحت کس قدر بیش قیمت ہے! اس نصیحت کے کرنے والے عظیم المرتبت باپ اور اس پر عمل کرنے والے خوش بخت بیٹے پر ربّ رحمن کی لاتعداد رحمتیں! اے ربّ ِکریم! ہم باپوں کو ایسی نصیحت کرنے اور ہمارے بیٹوں اور نسل کو اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمانا۔آمِیْن یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ! ۱۴:باجماعت نماز میں شمولیّت میں تاخیر پر بیٹے کی باز پُرس: امام عبدالرزاق نے مجاہد کے حوالے سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک رضی اللہ عنہ سے سنا اور میرے علم کے مطابق وہ بدری[1] تھے۔انہوں نے اپنے بیٹے سے پوچھا: ’’ أَدْرَکْتَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا؟‘‘ ’’تم نے ہمارے ساتھ(باجماعت)نماز پائی؟‘‘ انہوں نے کہا:[2] ’’ أَدْرَکْتَ التَّکْبِیْرَۃَ الْأُوْلٰی؟‘‘۔ ’’تم نے تکبیر اُولیٰ پائی؟‘‘ [1] یعنی انہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی تھی۔ [2] (انہوں نے کہا): شاید اس سے پہلے یہ جملہ [’’قَالَ: ’’نَعَمْ‘‘۔ اس (یعنی بیٹے) نے جواب میں عرض کیا: ’’(جی) ہاں۔] طباعت میں چھوٹ گیا ہے۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المصنف ۱/ ۵۲۸)۔