کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 194
یہ حضرات نماز کو بوجھ تصور نہ کرتے تھے،کہ جیسے تیسے ممکن ہو،اسے اتار پھینکا جائے۔وہ اسے بے حد ذوق و شوق سے باجماعت ادا کرتے اور اگر کسی سبب سے کبھی چھوٹ جاتی،تو اس کی تلافی کے لیے کوشش کرتے۔ ۱۱:باجماعت نماز رہ جانے پر شدید حزن وملال: حضرت سعید بن عبد العزیز تنوخی رحمہ اللہ [1] کے متعلق حافظ ذہبی نے نقل کیا ہے: ’’ کَانَ إِذَا فَاتَتْہُ صَلَاۃُ الْجَمَاعَۃِ یَحْسَبُہُ مَنْ یَرَاہُ أَنَّہُ فِيْ مَأْتَمٍ لِمَا یَریٰ عَلَیْہِ مِنَ الْحُزْنِ وَالْبُکَائِ ‘‘۔[2] ’’جب ان کی باجماعت نماز رہ جاتی،تو انہیں دیکھنے والا ان کے غم اور رونے کو دیکھ کر گمان کرتا،کہ وہ(کسی میت کے)ماتم میں ہے۔‘‘ یہ کیفیت تو اسی پر طاری ہوگی،جسے باجماعت نماز کی وجہ سے ملنے والے اجر وثواب کا علم اور اس پر یقین ہو۔اس سے بے خبر یا باخبر،لیکن بے یقین شخص ایک نہیں،بیسیوں نمازیں ضائع کرنے کے بعد بھی اس احساس کی نعمت سے محروم رہتا ہے۔ اے اللہ کریم! ہمیں باجماعت نماز کی شان وعظمت کا علم اور اس پریقین رکھنے والے خوش نصیب لوگوں میں شامل فرما دیجیے۔آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ! ۱۲:باجماعت نماز فوت ہوجانے پر آئندہ نماز تک عبادت کرنا: امام بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق روایت نقل کی ہے: ’’ إِذَا فَاتَتْہُ صَلَاتُہُ فِيْ جَمَاعَۃٍ صَلّٰی إِلَی الصَّلَاۃِ الْأُخْرٰی‘‘۔[3] [1] سعید بن عبد العزیز تنوخی: ابن ابی یحییٰ، امام، مفتی ٔدمشق، ابومحمد، ۹۰ھ میں پیدا اور ۱۶۷ھ میں فوت ہوئے۔ … بقول امام احمد … شام میں ان سے زیادہ صحیح حدیث والا کوئی نہیں، ان کی موجودگی میں امام اوزاعی سے مسئلہ دریافت کیا جاتا، تو فرماتے: ’’ابومحمد سے پوچھو۔‘‘ (ملاحظہ ہو: سیر أعلام النبلاء ۸/۳۲۔ ۳۸)۔ [2] تذکرۃ الحفاظ ۱/ ۲۹۔ نیز ملاحظہ ہو: سیر أعلام النبلاء ۸/ ۳۴۔ [3] منقول از: الإصابۃ في تمییز الصحابۃ ۴/ ۱۰۹۔