کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 188
د:بیماری اور بارش میں اٹھا کر مسجد لے جانے کا حکم دینا: امام ابن ابی شیبہ نے سعد بن عبیدہ کے حوالے سے ابوعبدالرحمن سے روایت نقل کی ہے: ’’ أَنَّہُ کَانَ یُحْمَلُ،وَہُوَ مَرِیْضٌ إِلَی الْمَسْجِدِ ‘‘۔[1] ’’بے شک انہیں بیماری کی حالت میں اٹھا کر مسجد لے جایا جاتا تھا۔‘‘ صرف یہی نہیں،بلکہ وہ بارش کے دن بھی اصرار کرتے،کہ انہیں اٹھا کر مسجد لے جایا جائے۔امام ابن مبارک نے سعد بن عبیدہ کے حوالے سے ان سے روایت نقل کی ہے: ’’ أَنَّہُ کَانَ یَأْمُرُہُمْ أَنْ یَحْمِلُوْہُ فِيْ الطِّیْنِ وَالْمَطَرِ إِلَی الْمَسْجِدِ،وَہُوَ مَرِیْضٌ ‘‘۔[2] ’’بے شک وہ اپنی بیماری کے دوران،کیچڑ اور بارش کے باوجود،انہیں(یعنی اپنے رفقاء کو)حکم دیتے تھے،کہ اٹھا کر انہیں مسجد لے جایا جائے۔‘‘ اللہ اکبر! یہ پاک باز حضرات کس قدر اُولو العزم تھے۔شدید بخار،سخت لاغری،کمزوری،آخری درجے کا فالج،کیچڑ اور بارش باجماعت نماز میں شرکت کی راہ میں ان کے لیے رکاوٹ نہ تھے۔رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی رَحْمَۃً وَاسِعَۃً۔ اے اللہ کریم! ہم ناکاروں اور ہماری اولادوں کو ان کے نقشِ قدم پر چلائیے۔إِنَّکَ سَمِیْعٌ مُّجِیْبٌ۔ ہ:اذان سننے پر حالتِ نزع میں مسجد پہنچنا: حافظ ذہبی نے مصعب کے حوالے سے نقل کیا ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: [1] المصنف، کتاب الصلوات، من کان یشہد الصلاۃ، وہو مریض، لایدعہا، ۱/ ۳۵۰۔ [2] کتاب الزہد، باب فضل المشي إلی الصلاۃ والجلوس في المسجد وغیر ذٰلک، رقم الروایۃ ۴۱۹، ص ۴۱۔ نیز ملاحظہ ہو: الطبقات الکبریٰ ۶/ ۱۷۲۔