کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 175
’’ مَا یَسُرُّنِيْ أَنَّ مَنْزِلِيْ إِلٰی جَنْبِ الْمَسْجِدِ۔إِنِّيْ أُرِیْدُ أَنْ یُکْتَبَ لِيْ مَمْشَايَ إِلَی الْمَسْجِدِ،وَرَجُوْعِيْ إِذَا رَجَعْتُ إِلٰی أَہْلِيْ ‘‘۔ ’’مجھے یہ پسند نہیں،کہ میرا گھر مسجد کے پڑوس میں ہو۔میں چاہتا ہوں،کہ مسجد کی طرف میرا جانا اور گھر پلٹنے پر میرا واپس آنا،میرے لیے لکھا جائے۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’ قَدْ جَمَعَ اللّٰہُ لَکَ ذٰلِکَ کُلَّہُ ‘‘۔[1] ’’یقینا اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ تمہارے لیے جمع فرما دیا ہے۔‘‘ اللہ اکبر! اس اللہ والے کی نیّت کس قدر پاکیزہ اور بلند وبالا تھی! پھر صرف نیّت ہی نہیں،بلکہ اس کے ساتھ مسلسل،شدید اور انتھک جدوجہد ہے،کہ مدینہ طیبہ میں مسجد سے سب سے زیادہ دور گھر ہونے کے باوجود،نہ تو سواری خریدنے پر آمادہ ہیں اور نہ کسی بھی نماز کی جماعت سے محروم رہتے ہیں۔رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔ اے اللہ کریم! ہم ناکاروں،ہماری اولادوں اور نسل میں یہ جذبۂ مبارکہ جاری و ساری فرما دیجیے۔إِنَّکَ جَوَّادٌ کَرِیْمٌ۔ ۲:باجماعت نماز کی خاطر نکلنے میں سُرعت: امام ابن سعید نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ رَأَیْتُ مُؤَذِّنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ رحمہ اللّٰهِ،وَہُوَ خَلِیْفَۃٌ بِخَنَاصِرَۃَ،یُسَلِّمُ عَلٰی بَابِہِ: [1] صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب فضل کثرۃ الخطا إلی المساجد، رقم الحدیث ۲۷۸۔ (۶۶۳)، ۱/ ۴۶۰۔ ۴۶۱۔