کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 171
کروانے کا پیغام بھجوایا۔ د:کچھ افاقہ ہونے پر دو آدمیوں کے سہارے باجماعت نماز کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد کی جانب روانہ ہونا بھی،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باجماعت نماز کے لیے اہتمام کو خوب واضح کرتا ہے۔پھر وہ افاقہ بھی کس قدر تھا اور اس میں حاصل ہونے والی قوت کیسی تھی؟ اُمّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کتنی وضاحت سے تصویر کشی کی ہے،کہ دو آدمیوں پر ٹیک لگا کر جانے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر میں زمین سے قدم اٹھا کر چلنے کی سکت نہ تھی۔ امام بخاری کا اس حدیث پر تحریر کردہ عنوان بھی کس قدر بلیغ اور دقیق ہے! انہوں نے لکھا ہے: [بَابُ حَدِّ الْمَرِیْضِ أَنْ یَشْہَدَ الْجَمَاعَۃَ ] [1] [(اس بارے میں)باب،کہ بیمار کو(بیماری اور لاغری کی)کس حد تک جماعت میں آنا چاہیے۔] فِدَاہُ أَبِيْ وَأُمِّيْ،وَصَلَواتُ رَبِّيْ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ۔[2] ہ:علامہ عینی نے اس واقعہ کے متعلق لکھا ہے: فِیْہِ الْإِشَارَۃُ إِلٰی تَعْظِیْمِ الصَّلَاۃِ بِالْجَمَاعَۃِ۔وَفِیْہِ تَأْکِیْدُ أَْمْرِ الْجَمَاعَۃِ،وَالْأَخْذُ بِالْأَشَدِّ،وَإِنْ کَانَ الْمَرَضُ یُرَخِّصُ فِيْ تَرْکِہَا۔[3] [1] صحیح البخاري، کتاب الأذان، ۲/ ۱۵۱۔ [2] میرے والدین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوجائیں اور ان پر میرے رب کی جانب سے درود وسلام۔ [3] ملاحظہ ہو: عمدۃ القاري ۵/ ۱۹۰؛ نیز ملاحظہ ہو: فتح الباري ۲/ ۱۵۶۔