کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 161
اپنا بازو کھڑا کرکے اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھتے۔‘‘ یعنی لیٹنے کی بجائے بیٹھے بیٹھے اپنی ہتھیلی پر سر مبارک رکھ کر تھوڑی دیر کے لیے آرام فرما لیتے۔ ملا علی قاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرزِ عمل کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ لِئَلَّا یَغْلِبَ عَلَیْہِ النَّوْمُ‘‘۔[1] ’’تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند کا غلبہ نہ ہوجائے۔‘‘ اللہ اکبر! نمازِ فجر کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کس قدر زیادہ تھا! نیند اور آرام کے شدید تقاضے کے باوجود غلبۂ نیند سے محفوظ رہنے کی غرض سے جسدِ اطہر زمین یا بستر سے دور رکھتے ہیں۔فَصَلَوٰاتُ رَبِّيْ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ۔ اے اللہ کریم! ہم ناکاروں اور ہماری اولادوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیے۔آمین یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔ ۴:اذان سننے پر بستر سے اٹھنے میں جلدی فرمانا: امام بخاری نے اسود رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا: ’’میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ’’ کَیْفَ کَانَتْ صَلَاۃُ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم بِاللَّیْلِ؟‘‘ ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کو نماز کیسے تھی؟‘‘ انہوں نے بیان فرمایا: ’’ کَانَ یَنَامُ أَوَّلَہُ،وَیَقُوْمُ آخِرَہُ،فَیُصَلِّيْ،ثُمَّ یَرْجِعُ إِلٰی فِرَاشِہِ۔فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ۔ [1] مرقاۃ المفاتیح ۷/ ۴۶۴۔