کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 147
تیسری روایت میں:’’ لَأُحَرِّقُ ‘‘ اور چوتھی روایت میں:’’ لَأُحَرِّقُہَا ‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے۔یہ تینوں الفاظ باب[تفعیل] سے ہیں،جس میں مبالغہ کا معنٰی ہوتا ہے۔یعنی[خوب اچھی طرح جلا دوں]۔حافظ ابن حجر نے لکھا ہے: ’’[فَأُحَرِّقُ] بِالتَّشْدِیْدِ،وَالْمُرَادُ بِہِ التَّکْثِیْرُ،یُقَالُ:[حَرَّقَہُ] إِذَا بَالَغَ فِيْ تَحْرِیْقِہٖ ‘‘۔[1] ’’[فَأُحَرِّقُ] شد کے ساتھ ہے اور اس سے مراد زیادتی ہے۔جب کوئی خوب اچھی طرح جلائے،تو کہا جاتا ہے:[حَرَّقَہُ] ‘‘ ہ:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری روایت میں[لَأُحَرِّقَنَّ] کے الفاظ استعمال فرمائے۔ان کے شروع میں[لام تاکید] اور آخر میں[نون ثقیلہ] ہے اور یہ دونوں حروف لفظ کے معنٰی کی تاکید کرتے ہیں۔ و:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف گھروں کو جلانے کی وعید پر اکتفا نہ فرمایا،بلکہ ان کے ساتھ باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والے مَردوں کو بھی جلانے کی تہدید فرمائی۔پہلی روایت کے الفاظِ مبارکہ ہیں:[فَأُحَرِّقُ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَہُمْ] ’’پس میں ان کے اوپر ان کے گھروں کو جلادوں۔‘‘ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’ یُشْعِرُ بِأَنَّ الْعَقُوْبَۃَ لَیْسَتْ قَاصِرَۃً عَلَی الْمَالِ،بَلِ الْمُرَادُ تَحْرِیْقُ الْمَقْصُوْدِیْنَ،وَالْبُیُوْتُ تَبَعًا لِلْقَاطِنِیْنَ‘‘۔[2] ’’یہ(حدیث)اس بات کی خبر دیتی ہے،کہ سزا صرف مالی نہ تھی،بلکہ [1] فتح الباري ۲/ ۱۲۹۔ [2] المرجع السابق ۲/ ۱۲۹۔