کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 142
’’جس شخص نے اذان سنی،پھر قبول نہ کیا(یعنی باجماعت نماز کی خاطر مسجد نہ آیا)،تو اس نے خیر کا ارادہ نہیں کیا اور اس کے ساتھ(بھی خیر کا)ارادہ نہیں کیا گیا۔‘‘ ۲:حضراتِ ائمہ ابن منذر،ابن ابی شیبہ اور ابن حزم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے فرمایا: ’’ لَأَنْ یَمْتَلِیئَ أُذُنَا ابْنِ آدَمَ رَصَاصًا مُذَابًا خَیْرٌ لَہُ مِنْ أَنْ یَسْمَعَ الْمُنَادِيَ،ثُمَّ لَا یُجِیْبُہُ ‘‘۔[1] ’’یقینا ابن آدم کے دونوں کانوں کا پگھلے ہوئے سیسے سے بھر جانا اذان سن کر اسے قبول نہ کرنے سے بہتر ہے۔‘‘ ۔۱۰۔ جماعت سے پیچھے رہنے والوں کو گھروں سمیت جلانے کا مصمّم ارادہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والوں پر شدید خفا ہوتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو ان کے گھروں سمیت زندہ جلانے کے لیے اپنے [1] الأوسط فی السنن والإجماع والاختلاف، کتاب الإمامۃ، ذکر تخوف النفاق…، رقم الروایۃ ۱۹۰۵، ۴/ ۱۳۷؛ والمصنف، کتاب الصلوات، من قال: إذا سمع المنادي فلیجب، ۱/ ۳۴۵؛ والمحلّی، ۴۸۵… مسألۃ … ۴/ ۲۷۴۔ الفاظِ روایت الأوسط اور المحلّٰی کے ہیں۔