کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 136
وَقَدْ أَکَّدَ ہٰذَا الْمَعْنٰی بِقَوْلِہِ:’’ مَنْ سَرَّہُ۔۔۔حَیْثُ یُنَادٰی بِہِنَّ۔‘‘ وَسَمّٰی تَارِکَہَا الْمُصَلِّيَ فِيْ بَیْتِہِ مُتَخَلِّفًا تَارِکًا لِلسُّنَّۃِ الَّتِيْ ہِيَ طَرِیْقَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم اَلَّتِيْ کَانَ عَلَیْہَا،وَشَرِیْعَتُہُ الَّتِيْ شَرَعَہَا لِأُمَّتِہِ۔ وَلَیْسَ الْمُرَادُ بِہَا السُّنَّۃَ الَّتِيْ مَنْ شَائَ فَعَلَہَا وَمَنْ شَائَ تَرَکَہَا،فَإِنَّ تَرْکَہَا لَا یَکُوْنُ ضَلَالًا وَلَا مِنْ عَلَامَاتِ النِّفَاقِ کَتَرْکِ الضُّحٰی،وَقِیَامِ اللَّیْلِ،وَصَوْمِ الْأِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ ‘‘۔[1] ’’اس میں وجۂ استدلال یہ ہے،کہ انہوں نے باجماعت نماز سے پیچھے رہنے کو جانے پہچانے نفاق والے منافق لوگوں کی علامات میں سے قرار دیا ہے۔نفاق کی نشانیاں مستحب(کام)چھوڑنے یا مکروہ کرنے پر نہیں ہوتیں۔احادیث(شریفہ)میں منافق کی علامتوں کا توجّہ سے مطالعہ کرنے والا اس نتیجہ پر پہنچتا ہے،کہ وہ ترکِ فریضہ یا حرام کام کا ارتکاب کرنے پر ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تاکید اپنے ارشاد[جو شخص کل اللہ تعالیٰ سے حالتِ اسلام میں ملاقات پسند کرے،تو وہ ان نمازوں کی،جہاں بھی ان کے لیے بلایا جائے،حفاظت کرے] سے فرمائی ہے۔ (علاوہ ازیں)انہوں نے باجماعت نماز سے پیچھے رہ کر گھر میں نماز ادا کرنے والے کو تارکِ سنّت یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے اور امت کے لیے ان کی بیان کردہ شریعت چھوڑنے والا قرار دیا۔(ان کی)اس سے مراد وہ سنّت نہیں،کہ چاہے تو اسے کرے اور چاہے اسے چھوڑ دے، [1] کتاب الصلاۃ ص ۷۰۔