کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 129
یَعْلَمُوْنَ مَا فِیْہِمَا لَأَتَوْہُمَا وَلَوْ حَبْوًا ‘‘۔[1] ’’منافق لوگوں پر فجر اور عشاء سے زیادہ گراں کوئی نماز نہیں۔اگر انہیں ان دونوں نمازوں میں جو(اجر وثواب)ہے اس کا علم ہوجائے،تو وہ دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں(یا سرین)پر گھسٹتے ہوئے(بھی)ان کے لیے پہنچ جائیں۔‘‘ ب:حضراتِ ائمہ احمد،ابوداؤد،نسائی،ابن خزیمہ،ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: ’’ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں(نمازِ)صبح پڑھائی اور(اس کے بعد)فرمایا: ’’ أَشَاہِدٌ فُلَانٌ؟‘‘۔ ’’کیا فلاں(شخص)موجود ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’نہیں‘‘۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ أَشَاہِدٌ فُلَانٌ؟‘‘۔ ’’کیا فلاں(شخص)موجود ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:’’نہیں‘‘۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ إِنَّ ہَاتَیْنِ الصَّلَاتَیْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ،وَلَوْ [1] صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب فضل العشاء في الجماعۃ، جزء من رقم الحدیث ۶۵۷، ۲/ ۱۴۱۔