کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 128
خاطر نہ آیا)،تو اس کی نماز نہیں۔‘‘ ۳:امام ابن منذر نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے فرمایا: ’’ مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ،ثُمَّ لَمْ یُجِبْہُ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ فَلَا صَلَاۃَ لَہُ ‘‘۔[1] ’’جس شخص نے منادی کرنے والے کو سنا،پھر بلا عذر اس کی دعوت قبول نہ کی،تو اس کی نماز نہیں۔‘‘ مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہے،کہ اذان سننے کے بعد بلاعذر مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کی بجائے کسی اور مقام پر ادا کی ہوئی نماز درست نہیں۔بلاشک وشبہ یہ بات باجماعت نماز کی فرضیّت کے لیے دلیل قاطع ہے۔ ۔۷۔ نمازِ باجماعت سے پیچھے رہنے کا منافقین کی ایک علامت ہونا متعدد احادیث اور آثار میں بیان کیا گیا ہے،کہ منافقوں کی ایک علامت باجماعت نماز سے پیچھے رہنا ہے۔توفیقِ الٰہی سے ذیل میں ان میں سے آٹھ روایات پیش کی جارہی ہیں: ا:امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ لَیْسَ صَلَاۃٌ أَثْقَلَ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَائِ۔وَلَوْ [1] الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف، کتاب الإمامۃ، ذکر تخوّف النفاق…، رقم الروایۃ ۱۸۹۹، ۴/ ۱۳۶۔ نیز ملاحظہ ہو: المحلّٰی، ۴۸۵ … مسألۃ …، ۴/ ۲۷۴۔