کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 124
۔۶۔ بلاعذر جماعت سے پیچھے رہنے والے کی نماز کا نہ ہونا حضراتِ ائمہ ابوداؤد،ابن ماجہ،ابن منذر،ابن حبّان،دار قطنی اور بغوی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ،فَلَمْ یَأْتِہِ،فَلَا صَلَاۃَ لَہُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ‘‘۔[1] ’’جو شخص اذان سن کر نہ آئے،تو سوائے عذر کے اس کی نماز نہیں۔‘‘ اس بارے میں دو باتیں ہیں: ا:اس حدیث کے حوالے سے پانچ محدّثین کے اقوال: ۱: امام ابوداؤد نے اسے حسبِ ذیل عنوان والے باب میں روایت کیا ہے: [1] سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، رقم الحدیث ۵۴۷، ۲/ ۱۸۰؛ وسنن ابن ماجہ، أبواب المساجد والجماعات، رقم الحدیث ۷۷۷، ۱/ ۱۴۲؛ والأوسط في السنن والإجماع والاختلاف، کتاب الإمامۃ، ذکر تخوّف النفاق علٰی تارک شہود العشاء والصبح…، رقم الحدیث ۱۸۹۸، ۴/ ۱۳۵؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبّان، کتاب الصلاۃ، باب فرض الجماعۃ والأعذار التي تبیح ترکہا، رقم الحدیث ۲۰۶۴، ۵/ ۴۱۵؛ وسنن الدار قطني، کتاب الصلاۃ، باب الحث لجار المسجد علی الصلاۃ فیہ إلا من عذر، رقم الحدیث ۴/ ۱/ ۴۲۰؛ والمستدرک علی الصحیحین، کتاب الصلاۃ، ۱/ ۲۴۵۔ الفاظِ حدیث امام ابن ماجہ اور امام ابن منذر کی نقل کردہ روایتوں کے ہیں۔ امام حاکم نے اسے [صحیحین کی شرط پر صحیح] کہا ہے اور حافظ ذہبی اور شیخ البانی نے ان کے ساتھ موافقت کی ہے۔ شیخ ابن باز نے اس کی [سند کو جید] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۱/ ۲۴۵؛ والتلخیص ۱/ ۲۴۵؛ وإرواء الغلیل ۲/ ۳۳۷؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۱/ ۱۳۲؛ وصحیح الترغیب والترہیب ۱/ ۳۰۱)۔ نیز ملاحظہ ہو: إنجاز الحاجۃ ۳/ ۵۱۳؛ وہامش سنن ابن ماجہ للدکتور بشار ۴/ ۹۶؛ وہامش الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۵/ ۴۱۵؛ وہامش شرح السنۃ ۳/ ۳۴۸؛ وفتاویٰ اسلامیہ ۱/ ۳۶۰۔