کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 111
إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ اللہ کریم نے سچ فرمایا: { فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِہِ أَنْ تُصِیبَہُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ } [1] ’’پس جو لوگ ان(یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم)کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ڈر جائیں،کہ ان پر کوئی بلا نازل ہوجائے یا کوئی دردناک عذاب انہیں آگھیرے۔‘‘ امام دارمی نے یہ واقعہ درجِ ذیل عنوان والے باب میں روایت کیا ہے: [بَابُ تَعْجِیْلِ الْعَقُوْبَۃِ مَنْ بَلَغَہُ عَنِ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم حَدِیْثٌ،فَلَمْ یُعَظِّمْہُ،وَلَمْ یُوَقِّرْہُ ] [2] [اس شخص کی سزا کے جلدی ہونے کے متعلق باب،جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث پہنچے اور وہ اس کی تعظیم وتوقیر نہ کرے]۔ ۔۵۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متعدد عذروں کے باوجود جماعت چھوڑنے کی اجازت نہ دینا حضرت عبداللہ بن امّ مکتوم رضی اللہ عنہ نے مسجد میں باجماعت نماز سے رخصت حاصل کرنے کی خاطر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور متعدد عذر پیش کیے۔ان عذروں اور ان کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ردّ عمل سے کماحقہ آگاہی کے لیے درجِ ذیل تفصیل ملاحظہ فرمائیے: [1] سورۃ النور/ جزء من الآیۃ ۶۳۔ [2] سنن الدارمي ۱/ ۵۰۷۔