کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 107
موجود ہونے کی صورت میں بھی باجماعت نماز کا حکم دیا ہے۔[1] ب:باجماعت نماز کی فرضیّت کی مزید تاکید اس بات سے ہوتی ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کا ارادہ کرنے والے دو اشخاص کو باجماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا۔امام بخاری نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: ’’سفر کا ارادہ کرنے والے دو اشخاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’إِذَا أَنْتُمَا خَرَجْتُمَا فَأَذِّنَا،ثُمَّ أَقِیْمَا،ثُمَّ لِیَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا‘‘۔[2] ’’جب تم دونوں نکلو،تو اذان کہو،پھر اقامت کہو،پھر تم دونوں میں سے بڑی عمر والا تمہاری امامت کروائے۔‘‘ امام بخاری نے اپنی کتاب[الصحیح] میں ایک باب کا حسبِ ذیل عنوان لکھا ہے: [بَابٌ اثْنَانِ فَمَا فَوْقَہُمَا جَمَاعَۃٌ ] [3] [دو یا ان سے زیادہ کے جماعت ہونے کے متعلق باب] ۔۴۔ اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت باجماعت نماز کی فرضیّت کے دلائل میں سے ایک یہ ہے،کہ مسجد میں موجود شخص کو اذان سننے کے بعد باجماعت نماز ادا کیے بغیر بلا عذر مسجد سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ [1] اس کی دلیل ان شاء اللہ تعالیٰ بعد میں ذکر کی جارہی ہے۔ [2] صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا کانوا جماعۃ والإقامۃ …، رقم الحدیث ۶۳۰، ۲/ ۱۱۱۔ [3] المرجع السابق ۲/ ۱۴۲ ۔