کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 105
لیے اجازت حاصل نہ ہوئی،تو معلوم ہوا،کہ باجماعت نماز ادا کرنا سب سے زیادہ ضروری واجبات میں سے ہے اور کسی کے لیے بھی ا س سے پیچھے رہنا جائز نہیں۔‘‘ ۔۳۔ نمازِ باجماعت ادا کرنے کا حکمِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم امام بخاری نے حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے: ’’میں اپنی قوم کے ایک گروہ کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا،تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیس رات ٹھہرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت مہربان اور نرم دل تھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا اپنے گھر والوں کے لیے اشتیاق دیکھا،تو فرمایا: ’’ اِرْجِعُوْا،فَکُوْنُوْا فِیْہِمْ،وَعَلِّمُوُہُمْ،وَصَلُّوْا۔فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ،فَلْیُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ،وَلِیَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ ‘‘۔[1] ’’تم لوٹ جاؤ اور انہی میں رہو۔انہیں تعلیم دینا اور نماز پڑھنا۔جب نماز کا وقت آئے،تو تم میں سے ایک تمہارے لیے اذان دے اور تم میں سے سب سے بڑی عمر والا تمہاری امامت کروائے۔‘‘ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا وقت آنے پر اذان اور امامت کا حکم دیا۔امامت کا حکم دینے کا مقصود یہی ہے،کہ نمازِ باجماعت ادا کی جائے۔ [1] صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب من قال: لیؤذن في السفر مؤذن واحد، رقم الحدیث ۶۲۸، ۲/۱۱۰۔ امام مسلم نے بھی اسی معنٰی کی حدیث روایت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب من أحق بالإمامۃ، رقم الحدیث ۲۹۲۔ (۶۷۴)، ۱/ ۴۶۵۔ ۴۶۶۔