کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 103
ابن قیم رقم طراز ہیں: ’’ وَوَجْہُ الْاِسْتِدْلَالِ بِالْآیَۃِ مِنْ وُجُوْہٍ: أَحَدُہَا:أَمْرُہُ سُبْحَانَہُ لَہُمْ بِالصَّلَاۃِ فِيْ الْجَمَاعَۃِ،ثُمَّ أَعَادَ ہٰذَا الْأَمْرَ مَرَّۃً ثَانِیَۃً فِيْ حَقِّ الطَّائِفَۃِ الثَّانِیَۃِ بِقَوْلِہِ:{ وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ }۔وَفِيْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ الْجَمَاعَۃَ فَرْضٌ عَلَی الْأَعْیَانِ إِذَا لَمْ یُسْقِطْہَا سُبْحَانَہُ مِنَ الطَّائِفَۃِ الثَّانِیَۃِ بِفِعْلِ الْأُوْلٰی۔وَلَوْ کَانَتِ الْجَمَاعَۃُ سُنَّۃً لَکَانَ أَوْلَی الْأَعْذَارِ بِسُقُوْطِہَا عُذْرُ الْخَوْفِ۔وَلَوْ کَانَتْ فَرْضَ کِفَایَۃٍ لَسَقَطَتْ بِفِعْلِ الطَّائِفَۃِ الْأُوْلیٰ۔ فَفِيْ الْآیَۃِ دَلِیْلٌ عَلٰی وُجُوْبِہَا عَلَی الْأَعْیَانِِ،فَہٰذَا عَلٰی ثَلَاثَۃِ أَوْجِہٍ: أَمْرُہُ بِہَا أَوَّلاً، ثُمَّ أَمْرُہُ بِہَا ثَانِیًا، وَأَنَّہُ لَمْ یُرَخِّصْ لَہُمْ فِيْ تَرْکِہَا حَالَ الْخَوْفِ ‘‘۔1[1] ’’(اس)آیت(شریفہ)سے استدلال متعدد پہلوؤں سے ہے: پہلی بات:اللہ تعالیٰ کا باجماعت نماز کا حکم دینا،پھر اپنے ارشادِ گرامی {وَلْتَاْتِ طَآئِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ }[2]کے ساتھ دوسرے گروہ کے لیے اس حکم کا اعادہ فرمانا۔ اس میں یہ دلیل ہے،کہ جماعت[فرضِ عین] ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے [1] کتاب الصلاۃ ص ۶۴۔۶۵۔ [2] ترجمہ: اور دوسرا گروہ آجائے، جس نے نماز نہیں پڑھی، وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھے۔