کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 101
عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ فِيْ حَالِ الْأَمْنِ أَوْجَبُ ‘‘۔[1] ’’اللہ تعالیٰ کا حالتِ خوف میں نمازِ باجماعت ادا کرنے کا حکم دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے،کہ حالتِ امن میں اس کا واجب ہونا مزید بڑھ جائے گا۔‘‘ ب:شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس آیتِ شریفہ سے ایک اور پہلو سے باجماعت نماز کی فرضیّت پر استدلال کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں: ’’ إِنَّہُ سَنَّ صَلَاۃَ الْخَوْفِ جَمَاعَۃً،وَسَوَّغَ فِیْہَا مَا لَا یَجُوْزُ لِغَیْرِ عُذْرٍ کَاسْتِدْبَارِ الْقِبْلَۃِ،وَالْعَمَلِ الْکَثِیْرِ،فَإِنَّہُ لَا یَجُوْزُ لِغَیْرِ عُذْرٍ بِالْاِتِّفَاقِ،وَکَذٰلِکَ مُفَارَقَۃُ الْإِمَامِ قَبْلَ السَّلَامِ عِنْدَ الْجَمْہُوْرِ،وَکَذٰلِکَ التَّخَلُّفُ عَنْ مُتَابَعَۃِ الْإِمَامِ،کَمَا یَتَأَخَّرُ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بَعْدَ رَکُوْعِہِ مَعَ الْإِمَامِ إِذَا کَانَ الْعَدُوُّ أَمَامَہُمْ۔ قَالُوْا:’’وَہٰذِہِ الْأُمُوْرُ تُبْطِلُ الصَّلَاۃَ لَوْ فُعِلَتْ بِغَیْرِ عُذْرٍ،فَلَوْ لَمْ تَکُنِ الْجَمَاعَۃُ وَاجِبَۃً،بَلْ مُسْتَحَبَّۃً لَکَانَ قَدِ الْتَزَمَ فِعْلُ مَحْظُوْرٍ مُبْطِلٍ لِلصَّلَاۃِ،وَتُرِکَتِ الْمُتَابَعَۃُ الْوَاجِبَۃُ فِيْ الصَّلَاۃِ لِأَجْلِ فِعْلِ مُسْتَحَبٍّ،مَعَ أَنَّہُ قَدْ کَانَ مِنَ الْمُمْکَنِ أَنْ یُصَلُّوْا وُحْدَانًا صَلَاۃً تَامَّۃً،فَعُلِمَ أَنَّہَا وَاجِبَۃٌ ‘‘۔[2] ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے[نمازِ خوف] باجماعت ادا کرنے کا طریقہ سکھلایا [1] الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف ۴/ ۱۳۵؛ نیز ملاحظہ ہو: معالم السنن للخطابي ۱/ ۱۶۰؛ والمغني ۳/۵۔ [2] مجموع الفتاویٰ ۲۳/۲۲۷۔