کتاب: ںصیحتیں میرے اسلاف کی - صفحہ 170
مولانا عطاء اللّٰہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللّٰہ ص:۳۴۹،۳۵۰) میں اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جن تین عظیم شخصیتوں کے راقم نے واقعات لکھے ہیں اگر وہ تینوں دین چھوڑ کر سکولوں یا کاروباروں کی طرف چلے جاتے آج ان کا نام بھی زندہ نہ ہوتا اور نہ وہ تاریخ کا حصہ ہوتے نہ ہی ان کے کوئی قابل فخر شاگردہوتے ۔۔۔۔سبحان اللہ یہی تین شخصیتیں اپنے دور کے عظیم شہسوار بنے ان میں سے دو اب ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی خدمات اظہر من الشمس ہیں ان کی تالیفات ،تحقیقات ،تراجم اور شاگردوں کا جم غفیر پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے ۔ اورتیسرے ہمارے درمیان موجود ہیں میری مراد ہمارے ممدوح شیخ التفسیر علامہ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ حیات ہیں اور دن رات دین کی سر بلندی کے لئے کوشاں ہیں ،انٹرنیشنل ادارے دارالسلام کی برانچ لاہور کے مدیر ہیں اور بے شمار قیمتی کتب کے مولف ہیں ان کی صرف ایک کتاب تفسیر احسن البیان کو اتنا شرف ملا کہ جو پوری دنیا میں پہنچ چکی ہے اور عر ب حکومت اس کو اپنے خرچے پر شایع کرکے کروڑوں کی تعداد میں تقسیم کر چکی ہے اور مسلسل کررہی ہے ۔محدث دہلوی کے بارے میں امام العصر محمد ابراھیم سیالکوٹی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :حضرت والیہ بھوپال کی طرف سے قاضی القضاۃ کا(سرکاری)عہدہ پیش کیا گیا لیکن آپ نے روش محدثین کو ملحوظ رکھتے ہوئے بوریہ نشینی درس و تدریس کو کرسی نشینی پر ترجیح دی ۔‘‘)تاریخ اہل حدیث :۴۷۹)سبحان اللہ ۔یہ تھے میرے اکابر ،جو شیخ الکل فی الکل کے نام سے جانے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے محدثین کی جماعتیں پیدا فرمائیں ،اگر وہ چند سرکاری ٹکوں کے پیچھے بھاگتے اور قرآن و حدیث کو چھوڑ دیتے تو تاریخ ان کا کبھی ذکر کرنا پسند نہ کرتی ۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے پیغام وحی پر محنت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو بلند مقام عطافرماتے ہیں ۔اور اس پر ہمارا ایمان ہے۔