کتاب: ںصیحتیں میرے اسلاف کی - صفحہ 167
کار زلٹ خسارے میں ہوا۔اچھے ذہن والے مدرسین بھی نہ رہے جو طلبا کو اچھا ذہن دے سکیں ا س سے مدارس کی بقا خطرے میں نظر آنے لگی ۔۔۔دس دس سال قرآن و حدیث پڑھانے والوں کو جونہی موقع ملا مادیت کی نوکری کی طرف اسی وقت قرآن و حدیث کو چھوڑ دیا اور کالجز و یونیورسٹیوں کا رخ کیا ؟؟؟؟
کل قیامت کو وہ کیا جواب دیں گے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روز قیامت شکوہ کریں گے کہ یارب ان قومی اتخذوا ھذاالقرآن مھجورا‘‘۔
جو اہل علم اپنی پوری زندگی دین کے لئے وقف کرکے گئے اور اس مشن کو جاری رکھنے کی تلقین کی صرف ایک صدی کے اندر سارا رخ ہی بدل گیا نہ وہ پڑھائی ،نہ وہ نصاب ،نہ وہ فکر اور نہ وہ طریقہ کار ۔ہم ان اسلاف کی جانشین ہیں جن میں سے اکثر ایک ایک فرد نے دنیا کی کایا پلٹ دی اور اپنے پیچھے ہزاروں ا فراداور علمی وتحقیقی اپنی تالیفات چھوڑیں ،اور ان کے الفاظ پکار پکار کہہ رہی ہیں کہ اسی مشن کو لازم پکڑنے میں کامیابی ہے اسی کی طرف آجاؤ ،دیگر چکروں میں نہ پڑیں
۔اب ہم کیا چھوڑ کر جارہے ہیں ؟؟؟؟
مولانا محمد یوسف راجووالوی رحمہ اللہ کا اپنے ہونہار بیٹے عبداللہ سلیم رحمہ اللہ کے بارے میں ارادہ تھا کہ وہ دینی تعلیم کے حصول کے بعد باپ کی مسند کو رونق بخشیں اور جامعہ کمالیہ کے انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں پوری کریں ۔لیکن مولانا عبداللہ سلیم کی طبع کے لئے دینی مدارس کے حصول تعاون کا طریقہ کار گراں محسوس ہوتا تھا اس لئے انھوں نے ابتداء ہی اپنے روز گار ہی اوٹی مدرس گزارنے کا انتخاب کرلیا تھا جبکہ مولانا محمد یوسف اوٹی کے حق میں نہ تھے۔(مرحوم دوست عبداللہ سلیم کی یاد میں ص:۱۱)
ذرہ تقابل کر لیں کہ کون پرسکون زندگی گزار رہاہے ؟