کتاب: ںصیحتیں میرے اسلاف کی - صفحہ 166
بدقسمتی سے یہ رَو بھی ،مدارس دینیہ میں ،دیکھا دیکھی بڑی پھیلتی جارہی ہے ۔)خاص نمبر ہفت روزہ الاعتصام لاہور بیاد مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ص:۴۱۹تا۴۲۳) محدث دہلوی کے بارے میں امام العصر محمد ابراھیم سیالکوٹی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :حضرت والیہ بھوپال کی طرف سے قاضی القضاۃ کا(سرکاری)عہدہ پیش کیا گیا لیکن آپ نے روش محدثین کو ملحوظ رکھتے ہوئے بوریہ نشینی درس و تدریس کو کرسی نشینی پر ترجیح دی ۔‘‘)تاریخ اہل حدیث :۴۷۹)سبحان اللہ ۔یہ تھے میرے اکابر ،جو شیخ الکل فی الکل کے نام سے جانے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے محدثین کی جماعتیں پیدا فرمائیں ،اگر وہ چند سرکاری ٹکوں کے پیچھے بھاگتے اور قرآن و حدیث کو چھوڑ دیتے تو تاریخ ان کا کبھی ذکر کرنا پسند نہ کرتی ۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے پیغام وحی پر محنت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی بلند مقام عطافرماتے ہیں ۔اور اس پر ہمارا ایمان ہے۔ کالجوں اسکولوں نے کتنے علماء پیدا کئے ؟ جی پیدا تو کئے ہیں لیکن ان کا تعلق کتنا دین سے ہے ؟ ان سے فیض حاصل کرنے والوں نے اسلام کی کتنی خدمت کی ؟ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس دین کی کتنی آبیاری کے لئے جدو جہد کی ؟ کتنے افراد کو نمازی بنایا ؟ کتنے افراد کا عقیدہ درست کیا ؟ انھوں نے کتنا اسلامی لٹریچر عام کیا ؟ منبرو محراب کے مالک کتنے پیدا کئے ؟ ہاں ایک کام کیا اور وہ مادیت کی طرف دعوت اور کچھ نہیں ۔ جب اچھے اچھے افراد نے مدارس کو چھوڑ کر سکولوں اور کالجز سے لو لگائی تو مدارس