کتاب: ںصیحتیں میرے اسلاف کی - صفحہ 165
دین کے سچے خادم بن کر اگر اللہ کو راضی کرلیں گے تو یقیناً و فائز المرام ہیں ۔من زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقدفاز وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور۔ ۲:دوسرا سبب بڑھتا ہوا پرتکلف معیار زندگی ہے ۔جو مساجد و مدارس سے ملنے والی تنخواہوں میں قائم کرنا اور رکھنا نہایت مشکل ہوتا ہے اس لئے دنیا کے معیار زندگی کو ہی سب کچھ سمجھنے والے نوجوان علمابقول غالب جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں ؟ وہ کوچے سے ہی دور رہتے ہیں اور اس میں داخل ہونے شے گریز رکھتے ہیں ،اس بیماری کا علاج حضرت مولانا رحمہ اللہ یہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ علماء کو پر تکلف اور پر آسائش زندگی کے مقابلے میں سادہ طرز زندگی اختیار کرنا چاہئے تاکہ کم سے کم آمدنی میں وہ اپنی اور اپنے اہل وعیال کی کفالت کر سکیں ۔نیز فرمایا کرتے تھے کہ آج کل لوگوں نے آسائشوں اور تکلفات ’’ضروریات زندگی‘‘میں شمار کرلیا ہے دراں حالکیہ ضروریات زندگی تو مختصر ہیں اور انھیں مہیا کرلیاآسان ہے البتہ آسائشوں اورسہولتوں کا حصول ہر شخص کے لئے آسان نہیں ہے۔اس کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور علما دنیوی آسائشوں کے حصول کے لئے جب ’’پاپڑ بیلنے ‘‘کے چکر میں پڑ جاتے ہیں تو وہ اپنے منصب سے بھی بے وفائی کرتے ہیں اور اپنے وقار کو بھی داؤ پر دیتے ہیں ۔ اسی دنیوی تمتعات اور مادی منافعے کے زیادہ سے زیادہ حصول کی خواہش نے بہت سے مدارس دینیہ کو اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ درس نظامی کی مروجہ تعلیم کے مخمل میں انگریزی اور کالجی طریقہ تعلیم کے ٹاٹ کا پیوند لگائیں تاکہ اس میں کچھ جاذبیت پیدا کی جا سکے۔