کتاب: ںصیحتیں میرے اسلاف کی - صفحہ 161
سرکاری امتحانات دے کر لیکچرر شپ وغیرہ اختیار کر لی جائے جس میں دنیوی ترقی کے مواقع ہیں ،ایک ذہین آدمی کو محض ملائے کتب بن کر نہیں رہ جانا چاہئے بلکہ اسے بہتر سے بہتر مواقع کے حصول کے لئے جہدو کاوش کرنی چاہئے لیکن راقم جو راستہ متعین کرچکا تھا اور جس نصب العین کو اپنا چکا تھا اس نے دوستوں کے ان مخلصانہ مشوروں کو تمام تر اخلاص و محبت کے با وصف درخار اعتناء نہ سمجھنے دیا اور راقم کسی بھی سرکاری امتحان کے چکر میں پڑنے سے گریز ہی کرتا رہا ۔
طالب علمی کے زمانے میں بھی ،جہاں منتہی طلباعام طور پرمولوی فاضل کا سرکاری امتحان دے کر سرکاری ملازمت کی پناہ گاہ حاصل کرلیتے ہیں ،راقم نے مولوی فاضل کا امتحان بھی بالقصد نہیں دیا اور محض لوجہ اللہ خدمت دین کے جزبے کو بطور مقصد زندگی اپنائے رکھا اس ذہن و مزاج سازی کے نامساعد حالات ،مشکلات اور ارباب مساجد و مدارس کے حوصلہ شکن رویوں کے باوجود علم ودین کی خدمت سے انحراف نہیں بلکہ ان تمام چیزوں کو پیغمبرانہ مشن اور وراثت انبیاء سمجھ کر برداشت کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق کے ساتھ حضرت مولانا رحمہ اللہ کی تربیت کا بھی دخل تھا ۔
مخدومی المحترم رحمہ اللہ مدارس دینیہ میں مولوی فاضل اور دیگر سرکاری امتحانات کی وبا ء کو مدارس کے بنیادی مقاصد کے خلاف سمجھتے تھے اور اس بنا پر ان کے سخت خلاف تھے اور جہاں بھی ان کا بس چلتا تھا وہ اس رجحانات کی حوصلہ شکنی کرتے تھے اپنے طور پر جن طلبا سے ان کا رطب وتعلق ہوتا ان کو سمجھاتے اور انھیں مساجد و مدارس سے وابستہ رہ کر دین کی خدمت کرنے کی تلقین فرماتے ۔
حضرت مولانا رحمہ اللہ کا یہ نظریہ ہمارے مدارس دینیہ سے فراغت حاصل کرنے والے طلباکے لئے اگرچہ بالعموم ناقابل عمل ہے وہ اسے اپنی معاشی اور دنیوی ترقی کے