کتاب: ںصیحتیں میرے اسلاف کی - صفحہ 105
استاد سبق سنے تو وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آئی تھی یا آپ نے یہ باتیں تو بتلائی ہی نہ تھیں ۔ طالب علم کو شرمندگی یا حیا نہیں کرنی چاہیے کہ میں نے اگر یہ بات پوچھی تو میرے ساتھی اور ہم درس میرا مزاق اڑائیں گے کہ ایسی آسان بات کا بھی اس کو پتہ نہیں ہے ۔ اس لیے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : علم کے بارے میں حیا اور شرم کرنے والا طالب علم یا تکبر کی وجہ سے علم کی بات استاد سے نہ پوچھنے والا علم حاصل نہیں کر سکتا ۔ ’’میرے بھائی ! چھ چیزوں کے بغیر تو علم حاصل نہیں کرسکتا ۔جس کی تفصیل میں تمہیں بیان کرتا ہوں ۔ وہ ذہانت ، علم سے شغف ، محنت اور درستگی علم ، طویل مدت اور استاد کی رفاقت ہیں ۔‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کہ’’ السائل کا لا عمی‘‘ ذہن میں جو صحیح یا غلط بات کھٹکے ، استاد صاحب سے اس کی وضاحت کروالینی چاہیے ،میں اپنے طلبہ کی اس سلسلہ میں ہمیشہ پوچھ لو ،پھر دونوں ہی بتلانا پڑتے ہیں ، کیونکہ مطالعہ نہ کرنا ایک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جب ہم پڑھا کرتے تھے تو عموماََ اس وقت مدرس صحیح علم کی جستجو اور حاصل کرنے کا جذبہ پایا جاتا تھا، لیکن اب طلبہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد سندِ فراغت حاصل کرلی جائے۔ المیہ یہ ہے کہ کبھی ہمارے درس ِ نظامی میں ساٹھ علوم و فنون پڑھائے جاتے تھے جن کی تفصیل میں امام غزالی رحمہ اللہ نے رسالہ لکھا اور اپنے زمانے کے علوم متعارف کروائے جبکہ تعلیم کا دورانیہ پندرہ بیس سال ہوا کرتا تھا اور اب تو ہمارے تعلیمی مدرس بڑے فخر ی اشتہار بازی کے ساتھ طلبہ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں کہ دو سالوں میں درسِ نظامی پڑھانے کی گارنٹی دے رہے ہیں ۔‘‘ (مقدمہ توفیق الباری ، بحوالہ محدث : ۳۱۸ ْ / ۷۷ ۔ ۷۵، جنوری ۲۰۰۸) حکیم محمد یحییٰ عزیز ڈاہروی حفظہ اللہ(کوٹ رادھا کیشن) لکھتے ہیں :’’ایک بار میں