کتاب: نماز تراویح فضائل و برکات تعداد رکعات ازالہ شبہات - صفحہ 93
(فَاِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہ جَالِسٌ اِلَیٰ حُجْرَۃِ عَائِشَۃَ وَ اِذَا أُنَاس ٌ یُصَلُّوْنَ فِی الْمَسْجِدِ صَلَوٰتَہُمْ فَقَالَ: بِدْعَۃٌ)۔ بخاری، باب کَمْ اِعْتَمَرَ النَّبِیُُّّ ﷺ ج : ۱ ، ص: ۲۳۸ و صحیح مسلم مع نووی ج : ۱ ، ص: ۴۰۹ ’’مجاہد کہتے ہیں کہ جب ہم مسجدِ نبوی ﷺمیں داخل ہوئے تو جناب عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حُجرہ کے پاس تشریف فرما تھے ۔ اور اس وقت کچھ لوگ مسجد میں نمازِچاشت پڑھ رہے تھے ،ہم نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ان کی اس نماز کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ بدعت ہے ‘‘۔ جبکہ یہ نماز متعدد اسانیدِ صحیحہ قویّہ سے مروی ہے ، جیسا کہ بخاری شریف کے حوالہ سے آپ پڑھ چکے ہیں۔بایں ہمہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو بدعت کیوں کہا ہے ؟‘‘۔ بدعت اس لیٔے کہا ہے کہ نبی ﷺ کے عہدِ سعادت معہد میں اس نماز کو باجماعت ادا کرنے کا دستور نہ تھا۔ جب کہ وہ لوگ اس کو باجماعت ادا کر رہے تھے ۔ چنانچہ امام نووی رحمہٗ اللہ لکھتے ہیں : (مُرَادُہٗ أَنَّ اِظْہَارُہَا وَ الِْاجْتِمَاعُ لَہَا بِدْعَۃٌ لَا أَنَّ صَلَوٰۃٌ الضُّحَیٰ بِدْعَۃٌ وَ قَدْ سَبَقَتْ الْمَسْئَلَۃُ فِي کِتَابِ الصَّلَوٰۃِ) شرح صحیح مسلم ج : ۱ ، ص: ۴۰۹ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد یہ تھی کہ نمازِ چاشت کو مسجد میں ظاہر کر کے پڑھنا اور اس کیلئے جماعت اور اجتماع کا اہتمام کرنا بدعت ہے نہ یہ کہ نمازِ چاشت ہی سرے سے بدعت ہے ‘‘۔ امام ابو بکر محمد بن ولید الطرطوشی مالکی لکھتے ہیں : (وَ مَحَلُّہٗ عِنْدِیْ عَلیٰ أَحَدِ وَجْہَیْنِ : أَنَّہُمْ کَانُوْا یُصَلُّوْنَہَا جَمََاعَۃً وَ اِمَّا أَنَّہُمْ یُصَلُّوْنَہَا مَعاً اِفْذَاذَاً عَلَیٰ ہَیْئَۃِ النَّوَافِلِ فِي أَعْقَابِ الْفَرَائِضِ)۔ کتاب الحوادث و البدع ص : ۴۰ ۔ ’’ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کی اس نماز کو یا تو اس لیٔے بدعت کہا کہ وہ اسے باجماعت پڑھ رہے تھے یا اکیلے اکیلے پڑھ رہے تھے مگر اسطرح سے جیسے فرائض کے بعد ایک ہی وقت میں تمام نمازی