کتاب: نماز تراویح فضائل و برکات تعداد رکعات ازالہ شبہات - صفحہ 86
مصفّیٰ شرح مؤطا فارسی مع مسوّیٰ ۱؍۱۷۷ ۔ اِن کتب میں علماء و فقہاء احناف میں سے علّامہ طحاوی و نانوتوی نے بیس رکعتوں کے سنتِ نبوی ﷺ ہونے کی تردید کی ہے ۔ علاّمہ انور شاہ کشمیری نے تقریر ترمذی (العرف الشذی) میں بیس رکعتوں والی روایت کے ضعیف ہونے پر اہلِ علم کا اجماع نقل کیا ہے ۔ علاّمہ ابن الہمام نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں ، علاّمہ انور شاہ کشمیری نے فیض الباری شرح بخاری میں، احمد بن نجیم نے بحر الرائق میں ، طحطاوی نے حاشیہ در المختار میں اور مولانا عبد الحیٔ نے حاشیہ ہدایہ میں صرف آٹھ رکعاتِ تراویح کو ہی ’’سنّتِ رسول ﷺ ‘‘ لکھا ہے اور بقیہ بارہ رکعتوں کو’’ مستحب ‘‘۔مزید تفصیل کیلئے دیکھیٔے :فتاویٰ علماء حدیث مولانا علی محمد سعیدی ۶ ؍۲۰۸ ۔ ۴۲۷، رکعاتِ تراویح مولانا کرم الدین سلفی ، صلوٰۃ التراویح مولانا عبد الرحمن فاضل دیوبند، علاّمہ حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی آٹھ اور بیس کے اختلاف سے نکلنے کا راستہ : نمازِ تراویح کی رکعتیں آٹھ سے لیکر انچاس (49) تک مختلف ادوار میں پڑھی گئی ہیں لیکن اُن میں سے دو عدد ہی زیادہ مشہور اور معمول بہٖ ہیں جو کہ آٹھ اور بیس ہیں ۔ اور آٹھ اور بیس کے اختلاف سے نکلنے کیلئے اگرچہ علاّمہ البانی رحمہٗ اللہ نے تولکھا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا وتروں سمیت گیارہ رکعتوں پر اکتفاء کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے زیادہ رکعتیں جائز ہی نہیں ہیں ۔ نمازِ تراویح ،فصل ثالث ص:۳۹ اور ص:۳۳ عربی لیکن اکثر اہلِ علم نے اسکا یہ حل بھی پیش کیا ہے کہ تراویح کی اصل اور مسنون رکعتیں تو صرف آٹھ اور وتروں سمیت گیارہ ہی ما نی جائیں ،کیونکہ صحیح احادیث وآثارِ صحابہث میں یہی وارد ہے ، لیکن چونکہ لوگ رمضان کی مبارک رات یا رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزار نا چاہتے تھے اور صرف آٹھ رکعتوں میں اتنا