کتاب: نماز تراویح فضائل و برکات تعداد رکعات ازالہ شبہات - صفحہ 81
یہی بات نصب الرایۃ (۲؍۱۵۲) ، شرح مسلم (۱؍۲۵۹) ، تنویر الحوالک( ۱؍۱۳۵) اور التعلیق الصبیح( ۲؍۱۰۴) میں بھی کہی گئی ہے ۔ اور یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ امام محمد کا یہ کہنا کہ ’’ ہم اِسی سب کو لیتے ہیں ‘‘ اور بیس رکعتوں کا ذکر تک بھی نہیں کیا، اس سے یہ بات بھی مترشِّح ہوتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہٗ اللہ کا مسلک بھی یہی ہے، کیونکہ امام صاحب سے بیس رکعتِ تراویح صحیح سند سے قطعاً ثابت نہیں ہے ۔ [4] امام ابن الہمام نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں عددِ تراویح سے تعلق رکھنے والی احادیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے : (فَتَحَصَّلَ مِنْ ہَذَا کُلِّہٖ أَنَّ قِیَامَ رَمَضَانَ سُنَّۃٌ اِحْدَیٰ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً بِالْوِتْرِ فِی جَمَاعَۃٍ ، فَعَلَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ) فتح القدیر شرح ہدایہ جلد اول ص : ۳۳۴ ’’ اس ساری تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ قیامِ رمضان کی مسنون تعداد گیارہ رکعتیں مع الوتر ہے باجماعت، نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا ‘‘ ۔ 1۔ مولانا عبد الحیٔ لکھنوی مؤطا امام محمد کے حاشیہ التعلیق الممجد اور دیگر کتب میں لکھتے ہیں کہ ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو وتروں کے سوا آٹھ رکعتیں پڑھائی تھیں ۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے ‘‘ ۔ التعلیق الممجد علی مؤطا امام محمد ص :۹۳ و فی بعض الطبعات ص :۱۳۸ ،عمدۃ الرعایۃ علی شرح الوقایۃ ۱؍۲۰۷ ، وتحفۃ الاخیار ص:۲۸ و حاشیہ ہدایہ ۱؍۱۵۱ ۔ 2۔ اپنی کتاب ’’ تحفۃ الاخیار ‘‘ میں پر انھوں نے لکھا ہے کہ اُن سے پوچھا گیا کہ جن راتوں میں نبی ﷺ نے جماعت کروائی تھی تو آپ ﷺنے کتنی رکعتیں پڑھائی تھیں ؟ اسکا جواب یہ ہے کہ اُنکی تعداد آٹھ رکعتیں تھی جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے پتہ چلتا ہے ۔ تحفۃ الاخیار ، ص:۳۸ ) ۔ 3۔ اپنی ایک تیسری کتاب عمدۃ الرعایہ میں بھی رکعتوں کی تعداد آٹھ اور تین وتر ذکر کی ہے اور ابن حبان کی حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کا حوالہ دیا ہے ۔ عمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ ۱؍۲۰۷