کتاب: نمازِ پنجگانہ کی رکعتیں مع نماز وتر و تہجد - صفحہ 88
علمائے حدیث کا مسلک ہے۔اِن کا استدلال صحاح ستہ میں حضرت ابوہریرہ صسے مروی اُس ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب اقامت ہوجائے،تب بھی نماز کی طرف بھاگ کر نہ آؤ،بلکہ آرام و سکون سے آؤ۔ ﴿فَمَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْاوَمَافَاتَکُمْ فَأَتِمُّوْا﴾[1] تمہیں جماعت کا جو حصہ مل جائے وہ(امام کے ساتھ)پڑھ لو،اور جو حصہ فوت ہو جائے،اسے بعد میں پورا کرلو۔ اس میں جمعہ کی نماز و جماعت بھی شامل ہے۔علّامہ عبدالرحمن مبارکپوری،ترمذی شریف کی شرح تحفۃ الأ حوذی میں لکھتے ہیں کہ پہلے مسلک والوں کے پاس کوئی صحیح اور صریح دلیل نہیں اور میرے نزدیک زیادہ صحیح مسلک وہی ہے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے کہ نمازی چاہے تشہّد میں ہی کیوں نہ آملے اُسے صرف دورکعتیں جمعہ کی ہی مکمل کرنا ہونگی،کیونکہ یہ ارشادِ نبوی مطلق ہے کہ تمہیں جماعت کا جو حصہ مل جائے اُسے پڑھ لو اور جو ررہ جائے،اُسے(بعد میں اٹھ کر)مکمل کرلو۔[2] اگر آدمی کی نمازِ جمعہ فوت ہوجائے تو جمعہ ہی کی نماز پڑھے یا ظہر کی؟: اب رہی یہ بات کہ اگر آدمی کی نماز فوت ہوجائے تو جمعہ ہی کی نماز پڑھے یا ظہر کی؟ اس سلسلے میں ایک سوال حضرت محدّث روپڑی سے کیا گیا،جو جواب سمیت افادۂ عام کیلئے درج ہے: سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی کی اگر نمازِ جمعہ فوت ہو جائے تو کیا اس صورت میں وہ جمعہ ہی کی نماز پڑھے گا یا ظہر کی نماز ادا کرے گا؟ فتاویٰ شائع فرماکر مشکور ہوں۔محمد أیوب صابر۔رینالہ خورد۔ الجواب بعون الوھاب: اس سلسلے میں آئمہ اسلام مختلف ہیں۔امام شافعی رحمہ اللہ،عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ،امام سفیان ثوری رحمہ اللہ،امام احمد رحمہ اللہ امام اسحاق بن راہویہ وغیرھم فرماتے ھیں کہ اگر مسبوق رکعت ِکا ملہ امام کے ساتھ پائے،تو دوسری رکعت پڑھ لے،اس کا جمعہ ہوگیا۔اور اگر رکعت سے کم حصّہ پائے،یعنی دونوں رکعتوں کے ہوجانے کے بعد آیا ہے اور محض سجود یا تشہّد ہی میں ملا ہے،تو اس کا جمعہ رہ گیا۔وہ ظہر کی نیت کرکے امام کے ساتھ ملے۔ [1] تخریج گزر چکی ہے۔ [2] تحفۃ ا لأحوذی ۳؍۶۱۔۶۳،الفتح الربانی ۶؍۱۰۹۔۱۱۰۔