کتاب: نمازِ پنجگانہ کی رکعتیں مع نماز وتر و تہجد - صفحہ 87
اِسی طرح جمعہ کے دن نمازِ فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا ذکر بھی صحاح و سنن میں موجود ہے۔چنانچہ مسلم،ابوداؤد،نسائی اور مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ جمعہ کے روز فجر کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورت(آلمٓ تنزیل)اور(ھَلْ أَتیٰ عَلیٰ الإِْنْسَانِ)اور جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ و سورۂ منافقون پڑھا کرتے تھے۔[1] صحیح بخاری،مسلم،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ اور مسنداحمد میں حضرت ابوہریرہ صسے مروی ہے کہ جمعہ کے روز صبح کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۂ(آلمٓ تنزیل)اور(ھَلْ أَتیٰ عَلیٰ الإِْنْسَانِ)پڑھا کرتے تھے۔[2] لہٰذا اگر ان کا خیال رکھا جاس کے تو مستحب ہے۔ حصول ِ ِجُمعہ کی شرط: کھی ایسی صورت بھی پیش آسکتی ہے کہ نمازی کسی وجہ سے اتنا تاخیر سے آتا ہے کہ خطبہ پورا ہی ختم ہوچکا ہے اور نماز ِجمعہ کی جماعت کھڑی ہوتی ہے،اُس نماز کا کتنا حصہ ملے تو نمازِ جمعہ مل جاتی ہے؟ اس سلسلے میں اہل علم کی دو الگ الگ رائے ہیں: امام احمد،امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ سمیت جمہور اہل ِ علم کی رائے یہ ہے کہ جو شخص جمعہ کی کم ازکم ایک رکعت پالے وہ تو صرف ایک رکعت کھڑے ہو کر اور پڑھ لے،اُسے جمعہ کی نماز مل گئی۔ اور اگر دوسری رکعت نہ ملے بلکہ محض سجود و تشہّد میں ہی مل پائے تو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد چار رکعتیں پڑھے،کیونکہ انکے نزدیک اُسے جمعہ کی نماز نہیں ملی۔اور اُس کی یہ نماز ظہر ہوگی۔ سفیان ثوری،ابن المبارک،اسحاق بن راہویہ اور امام ترمذی رحمہم اللہ کے بقول اکثر صحابہ کا بھی یہی مسلک ہے اور ان سب کا استدلال صحیح بخاری ومسلم،ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ اور دیگر کتب ِ حدیث میں مروی اس ارشادِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے: ﴿مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الصَّلَاۃِ رَکْعَۃً فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ﴾[3] جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اُس نے وہ نماز پالی۔ اس سلسلے میں دوسرا مسلک یہ ہے کہ نماز با جماعت کا چاہے کوئی بھی حصہ پالے،تو اُسے وہ جماعت مل گئی۔امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ صرف دو رکعتوں کو ہی مکمل کرے گا۔اور یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور [1] مسلم ۳؍۶؍۱۶۸،الفتح الربانی ۶؍۱۱۱ [2] بخاری مع الفتح ۲؍۳۷۷مسلم ۳؍۶؍۱۶۸،ترمذی ۳؍۵۶۔ [3] ترمذی و التحفہ ۳؍۶۱،الفتح الربانی ۶؍۱۰۷۔۱۰۸۔