کتاب: نمازِ پنجگانہ کی رکعتیں مع نماز وتر و تہجد - صفحہ 83
بخاری و مسلم شریف کی ایک دوسری حدیث کے الفاظ ہیں: ﴿قُمْ فَارْکَعْ﴾[1] اٹھو اور دو رکعتیں پڑھو۔ شارحینِ حدیث کے نزدیک اس شخص سے بھی حضرت سلیک ص ہی مراد ہیں،(ابن حجر و نووی)البتہ بخاری و مسلم میں ہی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ﴿إِذَاجَائَ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَ قَدْ خَرَجَ الْإِ مَامُ فَلْیُصَلِّ رَکْعَتَیْنِ﴾[2] جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن مسجد میں آئے اور امام نکل چکا ہو تو اسے چاہیئے کہ دو رکعتیں پڑھ لے۔ یہاں’’ امام نکل چکا ہو‘‘ سے مراد اسکا خطبہ شروع کرنا ہے،اور اگر محض گھر سے نکل کر مسجد میں آنا یا منبر پر صرف بیٹھنا،مگر خطبہ شروع نہ کرنا مراد لیا جائے تو پھر لیجیئے ایک اور ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ کیجیئے،صحیح مسلم ابوداؤد،نسائی،مسند احمد،دارقطنی اور بیہقی میں ہے: ﴿قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم وَھُوَ یَخْطُبُ:اِذَا جَآئَ أَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالإِْمَامُ یَخْطُبُ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ وَلَیَتَجَوَّزْ فِیْہِمَا﴾[3] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے:جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن اُس وقت آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو،تو اسے چاہیئے کہ دو رکعتیں پڑھ لے اور اُسے چاہیئے کہ دونوں رکعتوں میں تخفیف سے کام لے۔ تخفیف یعنی ہلکی سی رکعتیں پڑھنے کا حکم اسلیئے دیا گیا ہے تاکہ وہ جلد فارغ ہو کر خطبہ سن سکے۔امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ایسی نص ہے کہ اس کی کسی قسم کی تاویل کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی عالم ایسا ہو،جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ صحیح و صریح ارشاد پہنچے،پھر بھی وہ اس کی مخالفت کرے۔[4] یاد رہے کہ اسی حدیث میں حضرت سلیک عطفانی ص کو حکم فرمایا ہے: ﴿قُمْ فَارْکَعْ رَکْعَتَیْنِ وَ تَجَوَّزْ فِیْہِمَا﴾[5] اٹھو،دو رکعتیں پڑھو اور انہیں ہلکا سا پڑھو۔ [1] حوالہ سابقہ [2] الفتح الربانی ۶؍۷۷ و مسلم مع النووی ۳؍۶؍۶۳،نیل الأوطار ۲؍۳؍۲۵۶۔ [3] مسلم مع النووی ۳؍۶؍۱۶۴،الفتح الربانی ۶؍۷۷،نیل الأوطار ۲؍۳؍۲۵۶،مشکوٰۃ مع المرعاہ ۳؍۳۱۲۔۳۱۳،شرح السنہ ۴؍۲۶۴۔ [4] النووی علیٰ مسلم ۳؍۵؍۱۶۴۔ [5] مسلم مع النووی ۳؍۵؍۱۶۴۔