کتاب: نمازِ پنجگانہ کی رکعتیں مع نماز وتر و تہجد - صفحہ 79
کہ گیارہ رکعتوں کی پابندی کرے،کیونکہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ﴿مَاکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم یَزِیْدُ فِیْ رَمَضَاَنَ ولَافِیْ غَیْرِہٖ عَلٰی إحدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً﴾[1] نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا کسی دوسرے مہینے میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ ان گیارہ رکعتوں میں ہی تین وِتر بھی شامل ہوتے جیسا کہ اسی حدیث میں’’ ثُمَّ یُصَلِّیْ ثلَاَثاً‘‘سے پتہ چلتا ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عام معمول کی بات ہے،ورنہ صحیح بخاری شریف میں خود حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے ہی کم وبیش رکعتیں بھی ثابت ہیں﴿بَاْبُ کَیْفَ کَاْنَ صَلوٰۃُ النَّبِیِّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم وَکَمْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم یُصَلِّیْ مِنَ اللَّیْلِ﴾میں تیرہ،گیارہ،نو اور سات رکعتوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ نمازِ تہجد کے آداب بیان کرتے ہوئے بعض لوگ اتنا تشّدد سے کام لیتے ہیں کہ آدمی ڈر جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جو آدمی تہجد شروع کر ے،اسے پھر چھوڑنا ہر گز نہیں چاہیے بلکہ وہ بلاناغہ مسلسل پڑھتا رہے ورنہ یہ اور وہ ہوگا۔حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں،اپنی گنجائش اور توفیق کے مطابق عمل کیا جاسکتا ہے،البتہ افضل یہ ہے کہ کوئی بھی نیک کام شروع کر یں توپھر اس پر کار بند رہیں،کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارک یہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کو شروع کرتے تو اس کی پابندی فرماتے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی عمل کے محبوب ہونے کی بھی یہی علامت بتائی: ﴿اَدْوَمُہ‘ وَاِنْ قَلَّ﴾[2] کہ وہ دائمی ہو چاہے تھوڑا سا ہی کیو ں نہ ہو۔ لہٰذا ہمیشگی کی کوشش ہونی چاہیئے ورنہ جس قدر بھی ممکن ہو،غنیمت ہے۔ نمازِ جمعہ کی رکعتیں نمازِ جمعہ کی رکعتوں کے سلسلہ میں بطورِ خاص چار باتیں قابلِ ذکر ہیں: 1۔نمازِ جمعہ سے پہلے سنن و نوافل کی تعداد۔ 2۔دورانِ خطبہ دورکعتیں۔ 3۔نمازِ جمعہ کی فرض رکعتیں۔ 4۔فرضوں کے بعد سنتیں۔ اور اب آئیے ان چاروں امور کی کچھ تفصیل دیکھیں۔[3] [1] بخاری مع الفتح ۳؍۳۳،فقہ السنہ ۱؍۲۰۵ [2] فقہ السنہ ۱؍۲۰۲۔۲۰۳ [3] یاد رہے کہ’’نمازِ جمعہ:فضائل ومسائل و آداب واحکام،،کے موضوع پر ہماری ایک مستقل کتاب بھی زیر ِ طباعت ہے۔یَسَّرَ اللَّہَ طَبْعَۃ،۔