کتاب: نمازِ پنجگانہ کی رکعتیں مع نماز وتر و تہجد - صفحہ 68
ہے۔لیکن رکوع کے بعد دعائے قنوت بیان کرنے والی احادیث کے راوی زیادہ تعداد میں اور حافظہ کے اعتبار سے بھی زیادہ ہیں لہذا یہ اولیٰ ہے اور مشہور واکثر روایات میں خلفا ء راشدین کا عمل بھی بعداز رکوع دعائے قنوت کا ہی تھا۔[1] علّامہ عراقی لکھتے ہیں کہ دعائے قنوت کے بعدازرکوع اولیٰ ہونے کو خلفاء راشدین کے فعل سے بھی تقویت ملتی ہے۔اور ان احادیث سے بھی جن میں فجر میں رکوع کے بعد دعائے قنوت منقول ہوئی ہے۔ ۶۔امام مروزی نے قیام اللیل میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ کی روایت بیان کی ہے،جس میں ہے: ﴿اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰهُ علیہ وسلم کَانَ یَقْنُتُ بَعْدَالرَّکْعَۃِ وَابُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ حَتَّیْ کَانَ عُثْمَانُ فَقَنَتَ قَبْلَ الرَّکْعَۃِ لِیُدْرِکَ النَّاسَ﴾[2] نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے اسی طرح ہی حضرت ابوبکر وعمر رضی اﷲ عنہما کے عہدِ خلافت میں وہ پڑھتے تھے اور جب حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا شروع کردیا تاکہ لوگ مل جائیں۔ اس روایت میں وِتر کے متعلق دعا ء قنوت کی تشریح نہیں ہے۔ یہ روایت تقریبا ً سات طرق سے مروی ہے،بیشتر طرق میں﴿صَلوٰۃُالْفَجْرِ،صَلوٰۃُ الْصُبْحِ،صَلوٰۃُ الْغَدَاۃِ﴾کے الفاظ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نمازِ فجر سے متعلق ہے چنانچہ ابن ماجہ میں بھی ہے: ﴿سُئِلَ عَنِ الْقُنُوْتِ فِی صَلوٰۃِ الصُّبْحِ﴾[3] آپ رضی اﷲ عنہ سے نمازِ فجر میں قنوت کے متعلق سوال ہوا۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مذکورہ جواب دیا۔ [1] تحقیق زادالمعاد ۱؍۲۵۶،تحفہ الاحوذي ۲؍۵۶۶۔ [2] تحفۃ الاحوذی ۲؍۵۶۶،نیل الاوطار ۲ ؍۴۵،قال العراقی سندہ جید۔ [3] ابن ماجہ حدیث نمبر:۱۱۸۳۔