کتاب: نمازِ پنجگانہ کی رکعتیں مع نماز وتر و تہجد - صفحہ 34
دیا جاتا ہے اور تکبیرِ تحریمہ چھوٹنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔اس طرح گویا یہاں احناف کے نزدیک بھی یہ دو رکعتیں مستحب ہیں۔ حدیث نمبر۲:علّامہ سندھی نے جس حدیث انس رضی اﷲ عنہ کی طرف اشارہ کیا ہے وہ صحیح بخاری،مسلم،نسائی،ابن ماجہ،ابن خزیمہ اور مسند احمدا ور دار قطنی میں ہے،جس میں وہ فرماتے ہیں: ﴿کُنَّا بِالْمَدِیْنَۃِ فَاِذَااَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلوٰۃٖ الْمَغْرِبِ اِبْتَدَرُوْا السُّوَارِیْ فَیَرْ کَعُوْنَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ﴾[1] مدینہ منورہ میں ہم لوگوں کی عادت تھی کہ جب مؤذن مغرب کی آذان دیتا تو سب لوگ دوڑ کر ستونوں کی آڑ میں دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔ مسلم و غیرہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ لوگ ان دو رکعتوں کو اتنی کثرت سے پڑھا کرتے تھے کہ اگر کوئی نیا آدمی مسجد میں آتا تو سمجھتا کہ فرض نماز پڑھی جاچکی ہے اور لوگ شائد بعد والی سنتیں پڑھ رہے ہیں۔[2] بخاری و مسلم کی ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ کبار صحابہ رضی اﷲ عنہم کی اکثریت کا عمل یہی تھا۔بخاری میں حضرت انس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کبار صحابہ رضی اﷲ عنہم کو دیکھا کہ وہ ستونوں کی آڑ میں یہ سنتیں پڑھتے تھے۔بخاری اور مسلم کی ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ کبار صحابہ رضی اﷲ عنہم کی اکثریت کا عمل یہی تھا۔ حدیث نمبر۳:اسی طرح صحیح بخاری شریف میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ﴿صَلُّوْاقَبْلَ صَلوٰۃِ الْمَغْرِبِ﴾[3] نمازِ مغرب سے پہلے(دو رکعت)نماز پڑھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے اور تیسری مرتبہ فرمایا: ﴿لِمَنْ شَائَ﴾ جو چاہے پڑھے۔ حضرت عبداللہ مزنی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’جو چاہے پڑھے‘‘ اس لئے [1] بخاری مع الفتح ۱؍۵۷۷و ۲؍۱۰۶ مسلم مع النووی ۶؍۱۲۳،ابن ماجہ ۱؍۳۶۸،ابن خزیمہ ۲؍۲۶۶،دار قطنی ۱؍۲۶۷۔ [2] صحیح مسلم ۳؍۲؍۱۲۳۔ [3] بخاری مع الفتح۳؍۵۹۔۱۳؍۳۳۷۔