کتاب: نمازِ پنجگانہ کی رکعتیں مع نماز وتر و تہجد - صفحہ 27
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے کبھی چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور کبھی دو۔ان دو طرح کی احادیث کو اس چیز پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں دورکعتیں پڑھ لیتے اور گھر میں پڑھتے تو چار پڑھتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا وابن عمر رضی اﷲ عنہما نے جیسے دیکھا ویسا بیان کر دیا۔جبکہ ابو جعفر طبری فرماتے ہیں کہ ظہر سے پہلے اکثر اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار سنتیں پڑھتے تھے اور قلیل اوقات میں(کبھی کبھی)دو پرہی اکتفا کر لیتے تھے۔[1] ابو داؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،مسنداحمد،مستدرک حاکم اور شرح السنہ بغوی میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ﴿مَنْ حَافَظَ عَلیٰ اَرْبَعِ رَکْعَاتٍ قَبْلَ الظُّھْرِ وَاَرْبَعٍ بَعْدَھَا حَرَّمَہ‘ اللّٰہُ عَلٰی النَّارِ﴾[2] جو شخص چار رکعتیںظہر سے پہلے اور چار بعد میں ہمیشہ پڑھے گا،اللہ اسے آگ پر حرام کر دے گا۔ اس حدیث میں سے ظہر کے بعد بھی چار رکعتوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ الغرض وقت اور گنجائش جیسی ہو ویسے ہی کیا جا سکتا ہے دونوں طرف صحیح احادیث موجود ہیں۔ ظہر کی پہلی چار سنتوں کو ایک سلام سے پڑھنے کے بارے میں ابوداؤد و،ابن ماجہ اور شمائل ترمذی میں ایک روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان چار سنتوں کے مابین سلام نہیں پھیرتے تھے،یعنی چاروں رکعتوں کو ایک ہی سلام سے پڑھتے تھے۔اس حدیث کو خود امام ابو داؤد نے ہی ضعیف قرار دیا ہے۔[3] یہی حدیث مؤطأ امام محمد میں بھی ایک دوسری سندسے مروی ہے مگر وہ بھی ضعیف ہے۔کبار محدّثین میں سے امام ابوداؤد وابن خزیمہ،امام نسائی،ابن معین،امام احمد اور ابوزرعہ نے اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے اور ان سنتوں کو دو سلاموں سے دو دورکعتیں کر کے پڑھنے کے بارے میں سننِ اربعہ،صحیح ابن خز یمہ وابن حبان اور مسنداحمد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے: [1] نیل الاوطار ۲؍۳؍۱۵،تحفۃ الاحوذی ۲؍۴۹۶ [2] جامع الاصول ۷؍۱۸،النیل ۲؍۳؍۱۶،شرح السنہ ۳؍۴۶۴وقال محققو ہ:ھو حدیث صحیح بمجموع طرقہ وصحّحہ الالبانی فی المشکاۃ ۱؍۳۶۸ [3] شرح السنہ ۳؍۴۶۵-۴۶۶