کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 89
مساجد کے مسائل و فضائل مسجد کی فضیلت: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن بَنى مَسْجِدًا، يَبْتَغِي به وجْهَ اللهِ، بَنى اللَّهُ له مِثْلَهُ في الجَنَّةِ ’’جو شخص مسجد بنائے (اور) اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اس (مسجد) جیسا گھر بناتا ہے۔‘‘ [1] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں اور بازار انتہائی ناپسندیدہ ہیں۔‘‘ [2] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو مسجدیں دنیا کی تمام جگہوں سے بڑھ کر محبوب اور پیاری ہیں کیونکہ ان میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور بازار اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ ہیں کیونکہ وہاں حرص، طمع، جھوٹ، مکر اور لین دین میں فریب اور دھوکے کا دور دورہ ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی دینی یا دنیوی ضرورت کے بغیر بازار ہرگز نہیں جانا چاہیے اور مسجدوں کو بے حد محبوب رکھناچاہیے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کوئی دن کے اول حصے میں یا دن کے آخری حصے میں مسجد کی طرف جائے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے بہشت میں مہمانی تیار کرتا ہے۔‘‘[3] نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور بہت اچھے طریقے سے وضو کرے اور پھر مسجد کا قصد کرے تو ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں نہ ڈالے کیونکہ بے شک وہ اس وقت [1] صحیح البخاري، الصلاۃ، حدیث: 450، و صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 533۔ [2] صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 671۔ [3] صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 662، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 669۔