کتاب: نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں مع حصن المسلم - صفحہ 85
نمازی کا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لا يُصَلِّي أحدُكم في الثواب الواحدِ ليس على عاتِقِه منه شيءٌ)) ’’تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے ننگے ہوں۔‘‘[1] اس سے معلوم ہوا کہ مرد کے لیے نماز کے دوران میں سر ڈھانپنا واجب نہیں اگر ایسا ہوتا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کندھوں کے ساتھ سر کا ذکر بھی فرماتے، سر ڈھانپنے کے بارے میں مجموعی لحاظ سے لوگوں کو اس کی ترغیب دینا درست ہے مگرنماز کے ساتھ تخصیص کر کے سر نہ ڈھانپنے پر ملامت کرنا ٹھیک نہیں، تاہم بہتر یہی ہے کہ نماز کے دوران میں سر پر ٹوپی یا عمامہ وغیرہ ہو۔ دیکھیے: أخبار القضاۃ، محمد بن خلف بن حیان: 202/1۔ حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا، اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دونوں طرفیں اپنے کندھوں پر رکھی ہوئی تھیں۔[2] صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور وہ اپنے تہبند چھوٹے ہونے کے سبب اپنی گردنوں پر باندھے ہوئے ہوتے تھے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں اس وقت تک تم اپنے سر سجدے سے نہ اٹھانا۔ [3] یہ حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ اگلی صف والوں کے مقامِ ستر پر پچھلی صف والوں (خواتین) کی نظر نہ پڑے۔ یاد رہے کہ عہد نبوت میں خواتین پچھلی صفوں میں نماز ادا کرتی تھیں۔ [1] صحیح البخاري، الصلاۃ، حدیث: 359، وصحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 516۔ [2] صحیح البخاري، الصلاۃ، حدیث: 356-354، وصحیح مسلم، الصلاۃ، حدیث: 517۔ [3] صحیح البخاري، الصلاۃ، حدیث: 362۔